ایک اور برطانوی مغوی کی ویڈیو ریلیز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس ویڈیو میں دولتِ اسلامیہ کا کوئی شدت پسند بھی سامنے نہیں آیا

انٹرنیٹ پر ریلیز کی جانے والی ایک نئی ویڈیو میں ایک ایسے برطانوی شخص کو دکھایا گیا ہے جس کے مغوی ہونے کے بارے میں پہلے علم نہیں تھا۔

اس ویڈیو میں اس شخص نے اپنا نام جان کینٹلی بتایا ہے شدت پسندوں کی قید میں ہے۔

خیال ہے کہ یہ شخص عراق اور شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے قبضے میں ہے۔

دولتِ اسلامیہ نے اب تک تین مغویوں کو ہلاک کیا ہے جن میں دو امریکی اور ایک برطانوی شہری تھے اور برطانوی شہری ڈیوڈ ہینز کے قتل کی ویڈیو میں اس نے دھمکی دی ہے کہ وہ ایک اور برطانوی شہری ایلن ہیننگ کو بھی ہلاک کر دے گی۔

تازہ ترین ویڈیو میں کوئی ہلاکت بھی نہیں دکھائی گئی تاہم برطانوی شہری کو نارنجی لباس میں یہ کہتے دکھایا گیا ہے کہ وہ ایک قیدی ہیں۔

اپنے بیان میں یہ شخص مغربی دنیا سے یہ سوال کرتے دکھائی دیتا ہے کہ اسے اور دیگر افراد کو امریکی اور برطانوی حکومتوں نے کیوں اکیلا چھوڑ دیا ہے۔

’میری بات توجہ سے سنو‘ نامی اس ویڈیو میں دولتِ اسلامیہ کا کوئی شدت پسند بھی سامنے نہیں آیا۔

سکیورٹی امور کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کے مطابق یہ ایک ’پروپیگینڈا ویڈیو‘ ہے اور یہ ویڈیو کسی دھمکی پر ختم نہیں ہوتی جبکہ کیمرے پر بات کرنے والا مغوی ’دباؤ میں بیان دیتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ epicture
Image caption نئی ویڈیو برطانوی شہری ڈیوڈ ہینز کی ہلاکت کی ویڈیو کے اجرا کے تقریباً ایک ہفتے بعد جاری کی گئی ہے

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کی سابقہ ویڈیوز میں مخاطب امریکی اور برطانوی رہنما تھے لیکن اس نئی ویڈیو کا ہدف برطانوی عوام خصوصاً مسلمان ہیں۔

ویڈیو میں مغوی کا کہنا ہے کہ دیگر یورپی حکومتوں نے اپنے قیدیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کیے لیکن امریکہ اور برطانیہ چیزوں سے مختلف طریقے سے نمٹتے ہیں۔

اس ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کی ’مغربی میڈیا میں غلط شبیہ پیش کی جاتی ہے۔‘

ویڈیو میں دیے جانے والے حوالوں سے واضح ہے کہ یہ اسی برس بنائی گئی ہے لیکن تاریخ واضح نہیں ہے۔

یہ نئی ویڈیو دولتِ اسلامیہ کی جانب سے برطانوی شہری ڈیوڈ ہینز کی ہلاکت کی ویڈیو کے اجرا کے تقریباً ایک ہفتے بعد جاری کی گئی ہے۔

44 سالہ ہینز گذشتہ برس شام میں امدادی سامان کی فراہمی کے دوران اغوا کر لیے گئے تھے۔

دولتِ اسلامیہ نے امریکی فضائی حملوں کے ردعمل میں انھیں ہلاک کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ دھمکی ایک آن لائن ویڈیو میں دی گئی تھی جس میں امریکی صحافی سٹیون سوتلوف کی ہلاکت کو دکھایا گیا تھا۔

اس سے قبل منگل کو بھی دولتِ اسلامیہ نے ایک اور ویڈیو جاری کی تھی جسے ’جنگ کے شعلے‘ نامی فلم کا ٹریلر قرار دیا گیا تھا اور اس میں امریکی صدر براک اوباما پر عراق میں دوبارہ فوج نہ بھیجنے کے بیان کو سنا کر طنز کیا گیا تھا۔

اس ویڈیو کے آخر میں کہا گیا تھا کہ ’لڑائی تو ابھی شروع ہوئی ہے۔‘

اسی بارے میں