کوسوو میں چھاپے، مساجد کے آئمہ سمیت 15 گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ reuters
Image caption حراست میں لیے جانے والوں میں سے زیادہ تر کا تعلق پرسٹینا، پرزرن اور متروویچا سے ہے

کوسوو میں عراق اور شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے لیے جنگجوؤں کی بھرتی کے خلاف کارروائی کے دوران 15 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق گرفتار کیے جانے والوں میں پرسٹینا کی مرکزی مسجد کے امام شفقت کراسنقی سمیت کئی مساجد کے آئمہ شامل ہیں۔

شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف بغاوت کے دوران لڑائی میں شرکت کے لیے اب تک کوسوو اور البانیہ سے تعلق رکھنے والے تقریباً 200 افراد شام گئے ہیں اور ان میں سے کئی ہلاک ہو چکے ہیں۔

کوسوو کی پولیس نے گرفتار کیے گئے افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے اور صرف ان کے ناموں کے مخفف جاری کیے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی قومی سلامتی کے اہم معاملات کے تناظر میں درپیش خطرات کے پیشِ نظر کی گئی۔

حراست میں لیے جانے والوں میں سے زیادہ تر کا تعلق پرسٹینا، پرزرن اور متروویچا سے ہے۔

گذشتہ ماہ بھی کوسوو کی پولیس نے مختلف مقامات پر چھاپے مار کر 40 افراد کو گرفتار کیا تھا۔ یہ چھاپے ایسی عارضی مساجد پر بھی مارے گئے تھے جنھیں مبینہ طور پر بھرتی کے مراکز کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

دیگر یورپی حکومتوں کی طرح کوسوو نے بھی مشرقِ وسطیٰ جانے والے جہادیوں کو روکنے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔

جرمنی نے جمعے کو ہی اعلان کیا ہے کہ ملک میں ہر اس فرد کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا جو دولتِ اسلامیہ کے پیغام کی ترویج یا اس کے لیے بھرتیاں کرنے کے عمل میں شامل ہوگا۔

اسی بارے میں