’اسرائیلی لڑکوں کے قتل میں ملوث دو فلسطینی ہلاک‘

Image caption بیت الخلیل کے گورنر نے ان ہلاکتوں کودانستہ اور سوچ سمجھ کر کیا جانے والا قتل قرار دیا ہے

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایسے دو فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے جن پر رواں برس جون میں مقبوضہ غربِ اردن سے تین اسرائیلی لڑکوں کے اغوا اور ان کی ہلاکت میں ملوث ہونے کا شبہ تھا۔

ان اسرائیلی لڑکوں کی ہلاکت کے بعد ہی غزہ میں اسرائیلی کارروائی شروع ہوئی تھی جس میں دو ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے۔

اسرائیل کی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل پیٹر لرنر نے کہا ہے کہ عمر ابوعائشہ اور مروان القواصمی نامی ان افراد کو منگل کو بیت الخلیل کے علاقے میں ایک آپریشن کے دوران مارا گیا۔

ترجمان کے مطابق ایک فلسطینی اسرائیلی فوج کے خصوصی دستوں سے فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوا۔

اسرائیلی فوج کے ذرائع کے مطابق کارروائی میں دوسرا شخص بھی ہلاک ہوا لیکن اس کی باقاعدہ تصدیق ابھی باقی ہے۔

ان دونوں افراد کا ایک اور رشتے دار پہلے ہی حراست میں ہے اور اس پر اسرائیلی لڑکوں کے اغوا کی فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے۔

بیت الخلیل کے رہائشیوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے علی الصبح ایک مکان کا محاصرہ کیا جس کے بعد فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اسرائیلی فوجیوں نے منگل کی صبح بیت الخلیل یونیورسٹی کے علاقے میں آپریشن کیا

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’پولیس اور فوج انھیں گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ہم نے گولیاں چلائیں تو جواباً ہم پر فائرنگ ہوئی اور اسی تبادلے میں وہ مارے گئے۔‘

لیفٹیننٹ کرنل پیٹر لرنر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم نے ان میں سے ایک کی لاش دیکھی ہے لیکن دوسرے کی نہیں۔ تاہم غالب خیال یہی ہے کہ وہ بھی مارا گیا ہے۔‘

روئٹرز کے مطابق بیت الخلیل کے گورنر کامل حمید نے فلسطینی ریڈیو پر دونوں افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’القواصمی اور ابوعائشہ آج صبح بیت الخلیل یونیورسٹی کے علاقے میں فوجی آپریشن کے دوران ہلاک کر دیے گئے۔ ہم اس جرم کی مذمت کرتے ہیں اور یہ دانستہ اور سوچ سمجھ کر کیا جانے والا قتل ہے۔‘

خیال رہے کہ تین اسرائیلی باشندوں کی گمشدگی کا واقعہ 12 جون کو پیش آیا تھا اور ان کی لاشیں 30 جون کو بیت الخلیل کے نزدیک سے ملی تھیں۔

لاشوں کی برآمدگی کے بعد اسرائیل نے آٹھ جولائی کو غزہ پر حملوں کا آغاز کر دیا تھا اور کئی ہفتے جاری رہنے والی اس کارروائی میں 2100 فلسطینی مارے گئے تھے جن میں سے بیشتر عام شہری تھے۔

فلسطینی عسکریت پسندوں کے جوابی حملوں میں 67 اسرائیلی فوجی اور چھ شہری بھی ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں