’عراق اور شام میں جہادیوں کی آمد کو روکا جائے‘

Image caption اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ جہادیوں کی بھرتی اور مالی وسائل کی فراہمی کو روکیں

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام اور عراق میں غیر ملکی جہادیوں کی آمد روکنے کے لیے ایک قرارداد منظور کی ہے، جبکہ شام میں دولتِ اسلامیہ پر مزید فضائی حملے کیے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت امریکی صدر براک اوباما نے کی اور اس میں عراق اور شام میں غیر ملکی جہادیوں کی آمد کو روکنے کے لیے متفقہ طور پر قرارداد منظور کی گئی۔

صدر اوباما نے اس موقعے پر کہا کہ قرارداد کے پابند ممالک جہادیوں کی بھرتی اور ان کی مالی مدد روکیں گے۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسندی کے زہر آلود نظریے کو جڑ سے اکھاڑنا ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ جہادی ان مبلغین سے متاثر ہوتے ہیں جن کے تصورِ دنیا کو تشدد کا جواز بنایا جاتا ہے۔

امریکی صدر اوباما نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کو ختم کرنے میں مدد کرے۔

اس سے پہلے صدر اوباما نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دولتِ اسلامیہ کو ’موت کا نیٹ ورک‘ قرار دیا تھا۔

صدر اوباما نے کہا کہ برائی کی اس قسم سے کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے، جبکہ 40 سے زائد ممالک نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف اتحاد میں شامل ہونے کی پیشکش کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption صدر اوباما نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دولتِ اسلامیہ کو’ موت کا نیٹ ورک‘ قرار دیا

انھوں نے کہا: ’اس قسم کے قاتل صرف ایک زبان سمجھتے ہیں اور وہ طاقت کی زبان ہے۔ امریکہ ایک وسیع اتحاد کے ساتھ مل کر موت کے اس نیٹ ورک کو ختم کرے گا۔‘

صدر اوباما نے مزید کہا کہ ’ان کوششوں میں ہم اکیلے قدم نہیں اٹھائیں گے اور نہ ہی ہمارا غیر ملکی سرزمین پر فوجی بھیجنے کا ارادہ ہے۔ اس کی بجائے ہم عراقی اور شامی برادریوں کی حمایت کریں گے تاکہ وہ اپنے علاقے واپس لے سکیں اور ہم اپنی عسکری طاقت کو فضائی کارروائیوں کی صورت میں استعمال کریں گے تاکہ دولت اسلامیہ کا خاتمہ کیا جا سکے۔

’ہم ان دہشت گردوں کے خلاف زمین پر لڑنے والی فورسز کی تربیت کریں گے اور انھیں مسلح کریں گے۔ ہم ان کو مالی وسائل کی فراہمی روکنے کے لیے کام کریں گے اور خطے میں جنگجوؤں کی آمد و رفت کو روکیں گے۔ پہلے ہی 40 ممالک نے ان کوششوں میں شامل ہونے کی پیشکش کی ہے اور آج میں دنیا سے کہتا ہوں کہ ان کوششوں میں شامل ہو۔‘

صدر اوباما نے مسلم دنیا پر زور دیا کہ وہ القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ کے نظریے کو مسترد کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائیاں جاری ہیں

دوسری جانب امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے مطابق عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ پر فضائی حملے جاری ہیں۔

امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مدد سے جنگی جہازوں نے شام میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں تیل صاف کرنے والے 12 چھوٹے کارخانوں اور ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

پینٹاگون کے ابتدائی اندازوں کے مطابق فضائی حملے کامیاب رہے ہیں جبکہ تیل صاف کرنے والے کارخانوں سے دولتِ اسلامیہ کو روزانہ 20 لاکھ ڈالر کے مالی وسائل حاصل ہوتے تھے۔

اس سے پہلے امریکی فوج کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں کئی سال لگیں گے۔

اسی بارے میں