امریکہ میں مودی کے شاندار استقبال کی تیاریاں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیویارک کے میڈیسن سکوائر میں نریندر مودی کے استقبال کی تیاریاں ایسی ہو رہی ہیں جیسی کسی راك سٹار کے لیے ہوتی ہے

بھارت کے وزير اعظم نریندر مودی جعمہ کی شام امریکہ پہنچ رہے ہیں اور نیو یارک کا مشہور میڈیسن سکوائر گارڈنز ان کے دورے کا ایک اہم پڑاؤ ہے۔

اتوار کو تقریباً بیس ہزار بھارتی نژاد امریکی شہری، کانگریس کے سنیٹرز اور امریکہ کی کئی نامور ہستیاں نریندر مودی کو سننے کے لیے جمع ہوں گے جنہیں چند ماہ پہلے تک امریکی سر زمین پر پاؤں رکھنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔

ایلوس پریسلے، سر ایلٹن جان اور محمد علی جیسی شخصیات کی میزبانی کر چکا میڈیسن سكوائر گارڈن نریندر مودی کے استقبال کے لیے مکمل طور پر تیار نظر آ رہا ہے اور تیاری ویسی ہی ہے جیسی کسی راك سٹار کے لیے ہوتی ہے۔

ٹائمز سکوائر پر لگے بڑے بڑے ٹی وی سکرینوں پر نریندر مودی کی تقریر لائیو نشر کر رہے ہیں۔ نیو جرسی سے نیو یارک آنے والی ٹرینیں اتوار نہیں بلکہ ويك ڈیز کی طرح چلیں گی اور مجموعی طور پر اس سب پر تقریباً پندرہ لاکھ امریکی ڈالر کا خرچ آئےگا۔

اس پورے شو کو عملی جامہ پہنانے والے نریندر مودی کے بہت قریبی ساتھی بھارت برائی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کے لیے پیسے جمع کرنے میں کوئی مشکل نہیں آئی۔

ان کا کہنا تھا ’زیادہ تر پیسہ امریکی نژاد ڈاکٹروں، وکلا اور اکاؤنٹنٹ جیسے پیشہ ور افراد سے آیا ہے، کسی نے پانچ ہزار تو کسی نے دس ہزار ڈالر دیے ہیں۔ ہمیں بھی اس بات پر کافی حیرت ہوئی کہ لوگ اس وزير اعظم کا کس حد تک ساتھ دینا چاہتے ہیں۔‘

مودی کے اس دورے کو ماہرین امریکہ کا دل جیتنے کی مہم کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ لیکن مودی کے بہت سے حامیوں کے لیے یہ ایک فتح کا جشن ہے اس ملک کی مٹی پر جس نے دس برسوں تک مودی کو وہاں پاؤں رکھنے کی اجازت نہیں دی۔

ایک کا کہنا تھا: ’مودی جہاں بھی جاتے ہیں دل جیتتے ہیں۔ وہ امریکہ آ کر اوباما کو بھی جیت لیں گے، جاپان جا کر انھوں نے کامیابی حاصل کی، چین کے صدر جب بھارت آئے ان پر بھی انھوں نے فتح حاصل کر لی۔‘

دوسرے کا کہنا تھا دس برس تک انہیں ویزا نہیں دیا اور جیسے ہی وزير اعظم بن گئے تو امریکہ نے فوراً ہی انہیں دعوت بھیج دی اور ان کا ایسا خیر مقدم کیا جا رہا ہے جیسا آج تک کسی کا نہیں ہوا۔

نیو یارک سے کچھ ہی فاصلے پر نیو جرسی کا ایڈیسن شہر منی انڈیا کی طرح لگتا ہے اور یہاں مودی کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد ہے۔ ان میں سے زیادہ تر وہ ہیں جو امریکہ میں رہتے ہوئے بھی اپنی جڑوں سے کافی حد تک جڑے ہوئے ہیں۔

وہیں رہنے والی انجلی متھارو کہتی ہیں کہ مودی بھارت کے لیے ایک امید، ایک نئی شناخت بن کر آئے ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’میں ان سے دلی طور سے وابستگی محسوس کرتی ہوں۔ ان کے آنے سے لگ رہا ہے جیسے کوئی اپنا آ رہا ہو۔ مودی ہمارا فخر ہیں۔‘

مودی کے خیرمقدم کے لیے کہیں ان پر گیت لکھے جا رہے ہیں تو کوئی گربا ڈانس کی تیاریاں کر رہا ہے۔ نیو جرسی میں مودی کے لیے گربا کی تیاری کر رہے امریکہ میں پرورش پانے والے بچوں کو مشکل سے ریہرسل کے لیے دو ہفتے ملے لیکن ان کا جوش دیکھنے کے لائق ہے۔

ایک کہتی ہیں کہ انہیں لگتا ہے کہ مودی کو ان کا گربا پسند آئے گا، دوسری کا کہنا ہے کہ اس بات کا یقین نہیں ہوتا کہ ایک چائے بیچنے والا انسان اتنا بڑا آدمی بن سکتا ہے اور ان کے لیے عزت کی بات ہے کہ وہ مودی کے سامنے گربا کریں گی۔

امریکہ میں اپنے چار روزہ دورے میں مودی 35 سے زیادہ ملاقاتیں کر رہے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر بزنس ليڈروں کے ساتھ ہیں۔ لیکن سب کی نگاہیں اوباما کے ساتھ ہونے والے ان کی ملاقات پر لگی ہیں۔

بھارت برائی کہتے ہیں کہ اچھی جمےگي دونوں میں۔

ان کا کہنا تھا :’میں مودی اور اوباما دونوں کو ہی کافی قریب سے جانتا ہوں اور میری صدر اوباما سے اس معاملے پر بات بھی ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رشتہ دونوں ملکوں کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے اچھی خبر ہوگی۔‘

امریکی زمین پر اتنی بھیڑ جمع کرنےوالے مودی شاید پہلے غیر ملکی رہنما ہوں لیکن ساتھ ہی ساتھ ان سے امیدیں بھی کافی بڑھ گئی ہیں۔

کچھ لوگ سوال کر رہے ہیں کہ مودی نے خواب تو دکھا دیا ہے، پورا کر پائیں گے؟

اسی بارے میں