’دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں پر مزید فضائی حملے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ۔۔جنگی طیارے رات بھر چکر لگاتے رہے اور صبح کوبانے میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں

اطلاعات کے مطابق ترکی کی سرحد کے قریب شامی قصبے کوبانے کا محاصرہ کیے ہوئے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں پر فضائی حملے کیے گئے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار پال وُڈ کا کہنا ہے کہ جنگی طیارے جمعے کو رات بھر چکر لگاتے رہے اور پھر سنیچر کو صبح سویرے کوبانے میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔

تاہم امریکی قیادت میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف حملوں میں مصروف اتحادی افواج نے ابھی تک تصدیق نہیں کی ہے کہ آیا ان کے طیارے کوبانے کے علاقے میں بھی فضائی حملے کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل کرد جنگجو کوبانے پر دولتِ اسلامیہ کی چڑھائی کے خلاف مزاحمت کرتے رہے ہیں۔

ترکی اور شام کی درمیانی سرحد کے قریب واقع یہ قصبہ گزشتہ ایک ہفتے سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں مرکزی مقام بن چکا ہے۔

اب تک کوبانے اور اس کے گرد ونواح سے تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار لوگ ہجرت کر کے محفوظ مقامات کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔

یہاں سے جان بچا کر نکلنے والے کُرد لوگ سرحد کی دوسری جانب ترکی میں پناہ لے چکے ہیں۔

سرحدی دیہاتوں سے نامہ نگار مارک لوون نے بتایا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں کُرد شہریوں کی نقل مکانی کی وجہ سے سرحد پر تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے اور ترک فوجی شامی اور کُرد شہریوں کو سرحد عبور کرنے سے روک رہے ہیں۔

جمعے کو امریکی افواج کے سربراہ نے کہا تھا کہ اگرچہ شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف جاری فضائی حملوں سے اس جہادی گروہ کو نقصان پہنچ رہا ہے ، تاہم جنگجوؤں کو شکست دینے کے لیے فضائی حملے کافی نہیں ہوں گے۔

کوبانے کے علاوہ شام کے ایک دوسرے قصبے مِنبج اور مشہور شہر رقّہ سے بھی اتحادی فوجوں کے فضائی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

واضح رہے کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجو رقّہ کو اپنے مضبوط قلعے اور ہیڈکوارٹر کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

جمعہ کو امریکی سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی نے کہا تھا دولت اسلامیہ کے خلاف زمینی کارروائی کے ساتھ ساتھ سیاسی حل کی بھی ضرورت ہوگی۔ جنرل ڈیمپسی کا کہنا تھا کہ زمینی فوج تیار کرنے کے لیے شامی حکومت کے معتدل حزب مخالف سے تقریباً 15 ہزار فوجی درکار ہوں گے۔

جمعے کو ہی برطانیہ نے بھی عراق میں دولت اسلامیہ کے خلاف ہوائی حملوں میں امریکہ کی رہنمائی میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کر دی تھی، جبکہ فرانسیسی افواج پہلے سے ہی عراق میں جاری امریکی حملوں میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ بلجیم اور ڈنمارک بھی اپنے طیارے روانہ کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں