ہانگ کانگ کے مظاہرین ہیں کون؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چین کی حکومتی نے کچھ ضابطے جاری کیے ہیں جو یہ طے کریں گے کہ کون انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے اور کون نہیں

ہانگ کانگ میں نئے رہنما کے انتخاب کے طریقۂ کار پر جاری تنازعے کے باعث کشیدگی جاری ہے جہاں ہزاروں افراد حکومت کی جانب سے تنبیہ اور آنسو گیس کی شیلنگ کے باوجود سڑکوں پر ہیں۔

ہانگ کانگ میں انتخابات سنہ 2017 میں ہونے ہیں لیکن چین کی حکومتی نے کچھ ضابطے جاری کیے ہیں، جو یہ طے کریں گے کہ کون انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے اور کون نہیں۔ طلبہ اور جمہوریت کے حامی افراد کی یہ مہم گذشتہ ہفتے کے اختتام پر ایک بڑے احتجاج میں تبدیل ہوگئی۔ چین نے ان مظاہروں کی مذمت کی ہے۔

بی بی سی نے یہ جاننے کے لیے کہ کیا ہو رہا ہے کچھ عوامل کا جائزہ لیا ہے۔

مظاہرین کون ہیں؟

جمہوریت پسند کارکنوں کی تنظیم ’اوکیوپائی سینٹرل ود لو اینڈ پیس‘ یعنی ’شہر کے مرکز پر محبت اور امن سے قبضہ جما لو‘ نے سول نافرمانی کی تحریک شروع کی اور اعلان کیا کہ اگر بیجنگ نے انتخابی اصلاحات نہیں کیں تو ان کے مظاہرے مہنیوں تک جاری رہیں گے۔

مظاہرین ایسی سیاسی اصلاحات اور جمہوری انتخابات چاہتے ہیں جو عالمی معیار کے مطابق ہوں۔

اوکیوپائی سینٹرل نے کہا تھا کہ ایک بہت بڑی پر امن مہم یکم اکتوبر کو شروع ہوگی۔ تاہم انھوں نے اس سے پہلے ہی حکومتی صدر دفاتر کے باہر طلبہ کی قیادت میں جاری مظاہروں میں شمولیت اختیار کر لی۔

یہ طلبہ کون ہیں؟

یونیورسٹی کے طلبہ نے ایک علیحدہ احتجاج 22 سمتبر کو شروع کیا تھا۔ انھوں نے احتجاج کے آغاز میں اپنی کلاسوں کا بائیکاٹ کیا۔ پھر رفتہ رفتہ ان کے ساتھ سکولوں کے طلبہ بھی شامل ہو گئے۔

جمعے کو طلبہ مظاہرین نے حکومتی احاطے پر ہلہ بول دیا جس کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہو گیا۔ ان مظاہرین کی بڑھتی ہوئی تعداد دیکھ کر اوکیوپائی سنٹرل نے بھی اپنا احتجاج وقت سے پہلے شروع کر دیا۔

ہانگ کانگ چین کے زیرِ انتظام ہے، کیا مظاہرین کوئی تبدیلی لا سکیں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ afp
Image caption سنہ 2002 میں تجویز کیا جانا والا قومی سلامتی کا متازع قانون بڑے پیمانے پر کیے جانے والے مظاہروں کے بعد رد کر دیا گیا

مظاہروں کے آغاز سے قبل ہی اوکیوپائی سینٹرل کے منتظمین نے تسلیم کیا تھا کہ عین ممکن ہے ان کی تحریک چینی حکومت کو متاثر نہ کر پائے۔

ہانگ کانگ میں عوامی احتجاج اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مقامی سطح پر لوگوں کو اظہارِ رائے اور احتجاج کا حق حاصل ہے لیکن وہ اپنی حکومت براہِ راست خود منتخب نہیں کر سکتے۔ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ سڑکوں پر احتجاج سے تبدیلی آ جاتی ہے۔

بعض مظاہرے کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ سنہ 2002 میں تجویز کیا جانے والا قومی سلامتی کا متازع قانون آرٹیکل 23 بڑے پیمانے پر کیے جانے والے مظاہروں کے بعد رد کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ احتجاجی ریلیوں کے بعد حکومت نے محب الوطنی کی تعلیم سے متعلق کلاسوں کے اجرا کا فیصلہ بھی واپس لے لیا تھا۔

اس مرتبہ مظاہرے بڑے اور توقع سے زیادہ پر جوش ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی مظاہرین کا مطالبہ بھی بڑا اور انتہائی حساس ہے۔

ہانگ کانگ میں مکمل جہوریت وہاں کی حکومت کا طریقۂ کار بدل دے گی اور ایسا ہونا چین کے لیے ہانگ کانگ میں اس کی حاکمیت کے لیے براہِ راست چیلنج ہوگا۔

تشدد کے حاوی ہونے کے امکانات

ہانگ کانگ میں جلسے جلوس ہوتے رہتے ہیں اور عموماً یہ پر امن اور منظم ہوتے ہیں۔ لیکن چند برسوں سے ہانگ کانگ کی حکومت کے مفلوج ہونے کے بعد سے مظاہرے پرتشدد ہو گئے ہیں۔ حالیہ برسوں میں جمہوریت کے حامیوں اور بیجنگ کے حامیوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ مظاہرین کے حکومتی عمارات پر حملہ بھی کیا۔

اوکیوپائی سینٹرل ایک پر امن تحریک ہے لیکن ناقدین کو خدشہ ہے منتظمین مجمعے کو قابو نہیں کر پائیں گے۔ طلبہ کی قیادت میں جاری تحریک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد، جو پہلے ہی حکومتی عمارات پر ہلہ بول چکی ہے، اس ساری صورتحال کو بدل سکتی ہے۔

ہانگ کانگ کے لوگ کیا سوچتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حالیہ مہینوں میں جمہوریت کے حق میں اور حکومت کے حق میں ہونے والے مظاہروں میں دسیوں ہزار لوگوں نے شرکت کی

ہانگ کانگ میں لوگ مختلف الخیال لوگ رہتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں جمہوریت کے حق میں اور حکومت کے حق میں ہونے والے دونوں کی طرز کے مظاہروں میں دسیوں ہزار لوگوں نے شرکت کی۔

ہانگ کانگ تاجرانہ ذہنیت رکھنے والا شہر ہے جس کی وجہ سے بیشتر لوگ سول نافرمانی میں حصہ لینے یا بیجنگ کو ناراض کرنے سے ہچکچائیں گے کیونکہ اس سے معیشت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ بعض لوگوں کی رائے ہیں کہ قانون سازوں کو چین کی پیشکش قبول کر لینی چاہیے۔

تاہم لوگوں کی ایک بڑی تعداد نسبتاً مضبوط جمہوریت کے حق میں ہے اور چین کی حکومت کے خلاف ناراضی کا اظہار کرتی ہے اور یہ لوگ چین کی پیشکش کو حقیقی حق قرار نہیں دیتے۔

مرکزی کردار کون ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قانون کے پروفیسر بینی تائی (درمیان میں) اوکیوپائی سینٹرل کے شریک بانی ہیں

اوکیوپائی سینٹرل تحریک کے مرکزی منتظمین میں قانون کے ایک پروفیسر بینی تائی، عمرانیات کے پروفیسر چان کِن مین اور چارج منسٹر چیو یو منگ شامل ہیں۔ ان کو جمہوریت پسند متعدل شخصیات کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے۔

اس تحریک کو ہانگ کانگ کی جمہوریت پسند سیاسی جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ جمہوریت کے حامی ہمیشہ متحد نہیں ہوتے، ان میں سے بعض ایسی قدرے نرم اصلاحات کے حامی ہیں جو بیجنگ کی ناراضی کا سبب نہ بنیں۔

لیکن اگست میں چین کی جانب سے جاری کیے جانے والے اس فیصلے کے بعد کئی لوگ متحد ہو گئے جس میں ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹیو کے امیدواروں کو پابند کیا گیا تھا۔ اس فیصلے کو غیر جمہوری اور ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔

طلبہ مظاہرین میں ایلیکس چو اور لیسٹر شم ہانگ کانگ میں طلبہ تنظیم کے سربراہ ہیں۔ جوشوا وانگ سکالرازم تحریک کے رہنما ہیں جس نے محب الوطنی کی تعلیم کے خلاف مہم چلائی تھی۔ مظاہروں کے آغاز پر تینوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا تاہم اب وہ آزاد ہیں۔

اس تحریک کے بڑے مخالفین چین اور ہانگ کانگ کے حکومتی اہلکار ہیں جنھوں نے اوکیوپائی سینٹرل کے خلاف بات بھی کی ہے۔

بیجنگ اور تجارت کی حامی جماعتیں اس تحریک کے خلاف ہیں اور اوکیوپائی سنٹرل کی مخالف کئی تنظیمیں بن چکی ہیں۔

چین کیوں فکرمند ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چینی حکومت نہیں چاہے گی کہ جمہوریت پسند تحریک ہانگ کانگ سے ہوتی ہوئی اس کی اپنی سر زمین تک پہنچ جائے

چین کی کمیونسٹ پارٹی ایسی کسی تحریک کے حق میں نہیں ہے جس سے اس کی حاکمیت کو خطرہ ہو۔ نہ ہی وہ یہ چاہتی ہے کہ جمہوریت پسند تحریک ہانگ کانگ سے ہوتی ہوئی اس کی اپنی سر زمین تک پہنچ جائے۔

چین کے سرکاری میڈیا نے الزام عائد کیا ہے کہ بیرونی طاقتیں ہانگ کانگ کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کر کے علیحدگی پسند عوامل کو ہوا دے رہی ہیں۔

قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ اگر چین کو مقامی حکام کی جانب سے معاملے کی تحقیقات پر تسلی نہیں ہے تو کیا وہ اوکیوپائی سینٹرل پر کیے جانے والے کریک ڈاؤن میں شامل ہو گا ۔ تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ بین االاقوامی اور کاروباری رد عمل کو دیکھتے ہوئے چین اس قسم کے اقدام کو آخری حربے کے طور پر ہی استعمال کرے گا۔

آگے کیا ہو گا؟

2017 میں ہانگ کانگ میں براہ راست انتخابات ممکن بنانے کے لیے ہانگ کانگ کی حکومت کو ملک میں قانون ساز کونسل کو سیاسی تبدیلیوں کی تجاویز پر مشتمل ایک منصوبہ پیش کرنا ہو گا۔ جمہوریت پسند قانون دان، جن کے پاس ویٹو کا حق استعمال کرنے کے لیے کافی نشستیں موجود ہیں، ان کا کہنا ہےکہ وہ چین کی حکمرانی کو بنیاد بنانے والی کسی بھی تجویز کو رد کر دیں گے۔

اگر یہ تجاویز رد کر دی گئیں تو ہانگ کانگ میں پارلیمانی انتخابات میں دنیا بھر سے رائے شماری ممکن نہیں ہو سکے گی اور یہاں انتخابات پہلے کی طرح ہی منعقد ہوں گے جس میں ایک کمیٹی شامل ہو گی اور اس کمیٹی میں 1200 کے قریب ایسے افراد رہنما کا انتخاب کریں گے جو بیجنگ کی حمایت کرتے ہیں۔

تاہم ایسا کچھ بھی ہونے سے قبل ہانگ کانگ کو سڑکوں پر جاری موجودہ بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا ہوگا۔

اسی بارے میں