رقم نہ ملی تو شام میں امدادی کام روک دیں گے: ورلڈ فوڈ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس سے پہلے اقوامِ متحدہ نے ترکی میں شامی پناہ گزین کی مدد کی اپیل کی تھی

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی ادارہ برائے خوراک کی سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے ادارے کو مزید رقم نہ ملی تو اُُسے دو ماہ کے اندر عرب ملک شام میں لوگوں کی امداد کے کام روکنے پڑیں گے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے عالمی ادراہ خوراک یا ورلڈ فوٹ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کی سربراہ ولیری آموس نے کہا کہ ڈبلیو ایف پی نے شام میں لڑائی کی وجہ سے بے گھر ہونے والے 40 لاکھ لوگوں کو دیے جانے والے راشن میں پہلے ہی کمی کردی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک خوراک پہنچا سکے۔

انھوں نے شامی پناہ گزین کے لیے آنے والے موسم سرما میں سردی سے بچانے کے لیے ضروری سامان کی فراہمی کی اپیل بھی کی۔

ولیری آموس نے کہا کہ ’شام میں لاکھوں لوگوں کو خوراک اور دواؤں کی کمی کا سامنا ہے، لگ بھگ 30 لاکھ بچے سکول نہیں جاسکتے۔ شام کے اندر خطرے سے دوچار ایک کروڑ دس لاکھ لوگوں کو ہنگامی امداد کی ضرورت ہے جن میں سے 64 لاکھ لوگ وہ ہیں جنھیں اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’کئی لوگوں کو تو بار بار اپنی سکونت بدلنا پڑی ہے۔ 47 لاکھ لوگوں کو جن تک مہینوں اور سالوں سے رسائی بہت مشکل ہے، زندگی کی بنیادی ضروریات کی فراہمی اب تک ایک بڑا چیلنج ہے۔‘

گذشتہ ہفتے بھی اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ حالیہ دنوں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی شام کے شمالی علاقوں میں پیش قدمی کے بعد ترکی آنے والے ایک لاکھ 30 ہزار شامی پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کے لیے ترکی کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں ’یو این ایچ سی آر‘نے کہا تھا کہ شام میں سال 2011 سے شروع ہونے والے تنازعے کے دوران مختصر وقت میں پہلی بار پناہ گزینوں کی اتنی بڑی تعداد نے دوسرے ملک میں پناہ لی ہے۔

یو این ایچ سی آر کی ترکی میں ایلچی کیرل بیچلر نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ پناہ گزینوں کی اتنی بڑی تعداد کسی بھی میزبان ملک کو مشکل میں ڈال دیتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ سرحد پار آنے والوں کے لیے زیادہ یکجہتی اور بین الاقوامی امداد کی ضرورت ہے: ’صورتِ حال بدتر اور طول پکڑتی جا رہی ہے اور لوگوں کو مدد کی اشد ضرورت ہے۔‘

اسی بارے میں