’عراق میں عرب ملکوں کی کارروائی کے خلاف ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption چار عرب ممالک کے جنگی جہازوں نے شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لیا ہے

عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں وہ عرب ممالک کی شمولیت کے مکمل خلاف ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دولت اسلامیہ کے خلاف مغربی ممالک کی فضائی کارروائی نے خلا کافی حد تک پر کر دیا ہے۔

سعودی عرب اور اردن سمیت کئی عرب ممالک دولت اسلامیہ کے خلاف جاری امریکی کارروائی میں حصہ لے رہے ہیں لیکن ابھی تک صرف امریکہ، برطانیہ اور فرانس ہی دولت اسلامیہ کے اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔

بغداد میں بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر العبادی کا کہنا تھا کہ اگر انھیں غیر ملکی فضائیہ کی مدد حاصل ہو تو عراقی فوج دولت اسلامیہ کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم کا کہنا تھا کہ عراقی میں زمینی کارروائی کے لیے غیر ملکی فوجوں کی کوئی ضرورت نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پر یہ بات بالکل واضح ہے کہ ہم عراق کے اندر غیر ملکی فوج قبول نہیں کریں گے۔‘

العبادی کا کہنا تھا کہ خطے اور عالمی ممالک نے دولت اسلامیہ کے خطرے کو نظر انداز کیا جس سے انھیں عراق اور شام کے وسیع علاقے پر خلافت قائم کرنے میں مدد ملی۔

دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی سربراہی میں قائم عالمی اتحاد نے عراق میں اگست سے اب تک شدت پسند تنظیم کے ٹھکانوں پر 230 حملے کیے ہیں۔ 22 ستمبر سے اس کارروائی کا دائرۂ کار شام تک بڑھا دیا گیا جہاں اب تک دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر 70 سے زائد حملے کیے جا چکے ہیں۔

دولت اسلامیہ کے خلاف اس کارروائی میں مغربی ممالک کے علاوہ سعودی عرب، اردن، بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات نے بھی حصہ لیا ہے۔

اسی بارے میں