ٹام اینڈ جیری میں ’نسل پرستی کی وارننگ‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ٹام اینڈ جری کے کارٹون اب ایمازون پر ’نسل پرستی‘ کی وارننگ کے ساتھ لگا کریں گے

’ٹام اینڈ جیری‘ کے کارٹونز نشر کرنے سے پہلے خبردار کیا جائے گا کہ ان میں ’نسل پرستی‘ کے مناظر ہو سکتے ہیں۔

اس مشہورِ زمانہ چوہے اور بلی والے کارٹون کا سلسلہ 70 سال پہلے شروع ہوا تھا لیکن ایمازون کی ’پرائم انسٹنٹ وڈیو‘ پر نشر ہونے سے پہلے اب صارفین کو وارننگ دی جائے گی۔

اس کارٹون کے بارے میں دعویٰ ہے کہ اس میں ایک سیاہ فام نوکرانی کی جس انداز میں عکاسی کی گئی ہے وہ نسل پرستی پر مبنی ہے۔

ایمازون سے نشر ہونے والی وارننگ میں کہا گیا ہے کہ ایک زمانے میں امریکہ میں اس قسم کی نسل پرستی ’عام‘ تھی۔

ٹام اینڈ جیری بچوں کے مشہور ترین ٹیلی ویژن پروگراموں میں سے ایک تھا، لیکن اب یہ ’نسلی اور لسانی تعصبات‘ کی وارننگ کے ساتھ پیش ہوتا ہے۔

ایمازون کی انٹرنیٹ پر سٹریمنگ سروس نے اپنی کامیڈی کلیکشن میں چوہے اور بلی کے اس کارٹون کو شامل کیا ہے۔

لیکن ’ٹام اینڈ جیری: دا کمپلیٹ سیکنڈ والیوم‘ اب اس پیغام کے ساتھ لگتا ہے: ’ ٹام اینڈ جیری کے کچھ مناظر میں نسلی اور لسانی تعصب پر مبنی مناظر دکھائی دے سکتے ہیں جو ایک زمانے میں امریکہ میں عام تھے۔ اس قسم کی عکاسی تب بھی غلط تھی اور آج بھی غلط ہے۔‘

ثقافتی مبصر اور سوشیالوجی کے پروفیسر فرینک فوریدی کہتے ہیں کہ یہ ’بیوقوفانہ‘ وارننگ ایک قسم کی ’جھوٹی دین داری‘ ہے۔ ان کا کہناہے کہ اس قسم کی سنسرشپ ’ثقافتی زندگی میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔‘

کینٹ یونیورسٹی سے پروفیسر فرینک نے کہا کہ ’ہم لوگ تاریخ کو الٹا پڑھ رہے ہیں اور ان لوگوں کو پر کھنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کی ماضی میں مختلف اقدار تھیں۔‘

ٹام اینڈ جیری کارٹون سنہ 1940 میں پہلی بار ایم جی ایم سٹودیو میں بنائے گئے تھے۔ ولیم ہانا اور جوزف باربرا کی ہدایات میں بننے والے یہ کارٹونز امریکہ کے مضافاتی علاقوں میں رہنے والے ایک چوہے اور بلی کے درمیان لڑائی اور کشمکش پر مبنی تھے۔

سنہ 1940 کی بعد کئی دہائیوں سے یہ کارٹون ٹیلی ویژن پر الگ انداز اور سٹائل سے بار بار دکھائے گئے ہیں۔

مونٹفرڈ یونیورسٹی میں اینیمیشن کے سینئر لیکچرر سٹیو ابراہارٹ کا کہنا ہے کہ ٹام اینڈ جیری کی فلموں کی اینیمیشن کے معیار ’ شاندار‘ تھے۔

جب ان سے کارٹون میں نسل پرستی کی عکاسی کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ آج کل کے اینیمیشن کے طلبہ پرانے کارٹونز دیکھ کر حیران نہیں ہوتے۔ انھوں نے کہا کہ آج کل کے بچے وقت کے بدلتے ہوئے رویوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔

اسی بارے میں