سکیورٹی میں کوتاہی پر سیکرٹ سروس کی سربراہ مستعفی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جولیا پیئرسن کو دونوں پارٹیوں کے ارکان کے تیکھے سوالوں کا سامنا کرنا پڑا

امریکہ کے صدر براک اوباما کی حفاظت پر مامور ادارے سیکرٹ سروس کی سربراہ جولیا پیئرسن حالیہ دنوں میں سکیورٹی میں کوتاہی کے کئی واقعات رونما ہونے کے بعد مستعفی ہو گئی ہیں۔

جولیا پیئرسن نے بدھ کو ہوم لینڈ سکیورٹی کے محکمے کے سیکریٹری کو اپنا استعفیٰ پیش کیا۔

اس سے ایک دن پہلے انھیں کانگریس میں وائٹ ہاؤس کی سکیورٹی توڑنے کے ایک واقعے پر سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

یہ خبریں سامنے آنے کے بعد کہ 16 ستمبر کو ایک مسلح شخص کو صدر اوباما کے ساتھ لفٹ میں جانے کی اجازت دی گئی، جولیا پیئرسن پر اپنا عہدہ چھوڑنے کے لیے دباؤ بڑھ گیا تھا۔

جبکہ 19 ستمبر کو عمر گونزالز نامی ایک شخص بغیر کسی روک ٹوک کے وائٹ ہاؤس میں پہنچ گئے تھے۔

ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکریٹری جے جانسن نے ایک بیان میں کہا کہ ’امریکہ کی سیکرٹ سروس کی ڈائریکٹر جولیا پیئرسن نے استعفیٰ پیش کیا ہے اور میں اسے منظور کرتا ہوں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’میں ان کی سیکرٹ سروس اور قوم کے لیے 30 سالہ خدمات کو سلام پیش کرتا ہوں۔‘

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے بدھ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’صدر اوباما نے بھی جولیا پیئرسن کی لمبے عرصے کی عوامی خدمات کی تعریف کی۔‘

جان ارنسٹ نے کہا کہ جولیا نے اپنا استعفیٰ اس لیے پیش کیا کیونکہ ’وہ سمجھتی تھیں کہ یہ اس سروس کے بہترین مفاد میں ہے جس کے لیے ان کی لمبے عرصے کی خدمات ہیں۔‘

ایجنسی کے صدارتی حفاظت کے ڈویژن کے انچارج اب یہ عہدہ سنبھالیں گے۔

منگل کو امریکی کانگریس نے جولیا پیئرسن سے اس بارے میں پوچھ گچھ کی تھی کہ کس طرح سے چاقو سے مسلح ایک شخص وائٹ ہاؤس کے جنگلے کو عبور کرکے عمارت میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

جولیا پیئرسن نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی مگر انھیں ڈیموکریٹک اور ری پبلکن پارٹی دونوں کے ارکان کے تیکھے سوالوں اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

ایوان نمائندگان کی نگراں کمیٹی کے ارکان کے سامنے امریکی سیکرٹ سروس کی سربراہ جولیا پیئرسن نے کہا کہ 19 ستمبر کو وائٹ ہاؤس کی سیکیورٹی میں رخنہ پڑنے کا یہ واقعہ ناقابل قبول ہے اور وہ پوری طرح سے اس کی ذمہ داری قبول کرتی ہیں۔