مظاہرین مذاکرات پر راضی لیکن استعفے کا مطالبہ برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے واشنگٹن کے دورے کے دوران خبردار کیا کہ یہ چین کا ’اندرونی‘معاملہ ہے

ہانگ کانگ میں گذشتہ پانچ دنوں سے احتجاج کرنے والے طلبا حکومت کے ساتھ اپنے مطالبات پر بات چیت کے لیے رضامند ہو گئے ہیں۔

اس سے پہلے ملک کے چیف ایگزیکٹیو سی وائے لیونگ نے مستعفی ہونے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے مظاہرین کو بات چیت کی دعوت دی تھی۔

مظاہرین نے چیف ایگزیکٹیو سی وائے لیونگ کو مستعفی ہونے کے لیے جمعرات کی درمیانی شب تک مہلت دے رکھی تھی اور خبراد کیا تھا کہ لیونگ کا مستعفی نہ ہونے کی صورت میں وہ سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیں گے۔ اب یہ مہلت پرامن سے گزر گئی ہے۔

مستعفی ہونے کے لیے اس مہلت کے ختم ہونے سے پہلے سی وائے لیونگ نے ایک اخباری کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ سرکاری عمارتوں پر قبضے کی کوشش کرنے والوں کو پولیس کی جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انھوں نے کہا کہ کانگ کانگ کے سینیئر ترین سرکاری افسر کیری لیم جلد از جلد طالب علموں کے رہنماؤں سے بات چیت شروع کریں گے۔

احتجاج کرنے وا لے طالب علم رہنماؤں نے حکومت کی طرف سے بات چیت کی دعوت کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن وہ اس بات پر اسرار کر رہے تھے کہ لیونگ مستعفی ہو کیونکہ وہ اپنا’وقار‘ کھوہ چکے ہیں۔

جمہوریت نواز آکیوپائی سنٹرل گروپ کی طرف سے جاری ایک بیان میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ یہ بات چیت موجودہ سیاسی صورتِحال پر قابو پانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

گروپ نے مزید کہا کہ ’ہم اپنے خیالات دہراتے ہیں کہ چیف ایگزیکٹو کو مستعفی ہونا چاہیے۔‘

اس سے پہلے چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے ہانگ کانگ میں’غیر قانونی‘ احتجاج کے خلاف سخت تنبیہ کی جب کہ مظاہرین نے اس وقت تک احتجاج جاری رکھنے کا تہیہ کیا ہے جب تک چیف ایگزیکٹیو مستعفی نہیں ہو جاتے۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ 2017 میں ہانگ کانگ کی قیادت کے لیے ہونے والے انتخابات میں چین امیدواروں کے ناموں کی منظوری دینے کا فیصلہ واپس لے۔

چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے واشنگٹن کے دورے کے دوران خبردار کیا کہ یہ چین کا ’اندرونی‘معاملہ ہے۔

ان کے امریکی ہم منصب جان کیری نے ہانگ کانگ کی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ مظاہرین سے نمٹنے میں احتیاط برتیں۔

اسی بارے میں