حضرت داؤد کےدور میں کون سی شراب؟

Image caption ۔۔۔انگوروں پر تحقیق حکومت کی سرپرستی میں ہو رہی ہے

اسرائیل میں سرکاری مالی معاونت سے انگور پر ایک تحقیق کی جا رہی ہے جس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے زمانے میں کون سی شراب پی جاتی تھی تاکہ اسی طرح کی شراب کشید شروع کی جا سکے۔

غرب اردن کی ایرئل یونیورسٹی میں محقق الیشیو ڈورس کی لیباٹری کے باہر شراب کے پیپے دیکھ جا سکتے ہیں۔

ان کا مقصد انگور کی اسی قسم کا پتہ لگانا ہے جس کا ہزاروں سال قبل شراب کشید کرنے میں استعمال کیا جاتا تھا اور جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ آج بھی اس خطے میں اگایا جاتا ہے۔

الیشیو ڈورس نے یہودیوں کی ایک ویب سائٹ کو نیویارک میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے کہ اسرائیل میں سیفد انگور پیدا نہیں کیا جا رہا کیوں یہ کیلیفورنیا سے وہاں لایا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا یہ بہت دلچسپی کا باعث ہو گا کہ اسرائیل میں ایک ایسی شراب بنائی بنائی جائے جس کا ایک تاریخی پس منظر بھی ہو اور جو اور کہیں نہ بنائی جا رہی ہو۔ ڈورس شراب کشید کرتے ہیں اور وہ شراب کے بین الاقوامی مقابلوں میں جج کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں۔

سنہ دو ہزار گیارہ میں انھوں نے ایک ٹیم کو اسرائیل کے غیر آباد علاقوں میں روانہ کیا تاکہ ویرانوں اور جنگوں میں اگنے والے انگور کی اقسام کا پتہ لگایا جا سکے۔

اس تحقیق میں ایک مشکل جو انھیں درپیش ہے وہ اس علاقے میں صدیوں تک مسلمانوں کی حکومتیں رہی ہیں جن دوران شراب کشید کرنے پر پابندی رہی اور مانگ نہ ہونے کی وجہ سے انگوروں کی بہت سے اقسام ناپید ہو گئیں۔

تین سال کی تحقیق کے بعد انگوروں کی سو اقسام دریافت کی ہیں جو صرف اسرائیل میں پائی جاتی ہیں اور جن میں سے دس اقسام ایسی ہیں جو شراب کشید کرنے کے موزوں پائی گئی ہیں۔

ڈروس اب ان اقسام کا موازنہ بیت المقدس کے قدیم حصہ میں آثار قدیمہ میں پائے گئے تین ہزار سال پرانے ایک کلو انگوروں کے بقایات سے کرنا چاہتے ہیں۔

ڈورس مالی شلوم ڈیول نامی ایک ڈی این اے بائیولوجسٹ کی مدد سے اسرائیل کے مقام انگوروں کے جنومز کا پتہ لگا رہے ہیں۔

ڈورس نے ویب سائٹ سے مزید کہا کہ ’آپ یہ جاننا چاہیں گے کہ اس دور میں شراب کس قسم کی ہوتی تھی جوحضرت داؤد پیتے تھے، کیا وہ سرخ تھی یا سیفد تھی۔‘

اسی بارے میں