’مجھے موت سے ڈر لگتا ہے‘

Image caption عبدالرحمان کاسگ نے والدین ایک ویڈیو پیغام میں دولتِ اسلامیہ سے رحم کی فریاد کرتے ہوئے اپنے بیٹے کی رہائی کی اپیل بھی کر چکے ہیں

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں یرغمال امریکی شہری پیٹر كاسگ کے والدین اپنے بیٹے کی جانب سے دورانِ حراست تحریر کیا گیا ایک خط منظرِ عام پر لائے ہیں۔

26 سالہ پیٹر كاسگ امریکی امدادی کارکن ہیں اور انھوں نے اسلام قبول کر کے اپنا نام عبدالرحمان رکھا ہے۔

جون 2014 میں لکھے گئے خط میں کاسگ نے لکھا ہے کہ وہ ’موت سے خوفزدہ ہیں‘ اور انھیں دکھ ہے کہ ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی وجہ سے ان کا خاندان تکلیف میں ہے۔

سنیچر کو عراق اور شام میں سرگرم دولتِ اسلامیہ نے برطانوی یرغمالی ایلن ہیننگ کی ہلاکت کی جو ویڈیو جاری کی تھی اس کے آخر میں پیٹر كاسگ کے قتل کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔

اب تک شدت پسند تنظیم چار غیر ملکیوں کے قتل کی ویڈیو جاری کر چکی ہے جن میں دو امریکی صحافی اور دو برطانوی امدادی کارکن تھے۔

دولتِ اسلامیہ کے مطابق ان افراد کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے تنظیم کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے ردعمل میں ہلاک کیا گیا ہے۔

عبدالرحمان کے والدین ایڈ اور پاؤلا کاسگ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے کے خط کے مندرجات عام کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کہ ’دنیا جان سکے کہ ہم اور دیگر اور لوگ اس کا کتنا خیال کرتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption 26 سالہ پیٹر كاسگ امریکی امدادی کارکن ہیں اور انھوں نے اسلام قبول کر رکھا ہے

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ دنیا بھر میں ان کے بیٹے کی بازیابی کے لیے دعاگو افراد، خصوصاً اس کے ساتھ لبنان، ترکی اور شام میں کام کرنے والوں کے شکرگزار ہیں جنھوں نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا۔

دو جون کو والدین کو ملنے والے خط میں عبدالرحمان کاسگ نے لکھا ہے کہ ’مجھے یقیناً موت سے ڈر لگتا ہے لیکن سب سے مشکل چیز حالات کے بارے میں نہ جان پانا ہے اور یہ سوچنا ہے کہ میں کوئی امید رکھوں بھی کہ نہیں۔‘

والدین کو مخاطب کرتے ہوئے خط میں انھوں نے کہا ہے کہ ’اگر میں مر جاتا ہوں تو کم از کم میں اور آپ یہ جان کر صبر کر سکیں گے کہ میں نے امداد کے مستحق افراد کی مدد کرتے ہوئے اور ان کی مشکلات میں کمی کی کوشش کے نتیجے میں جان دی۔‘

خیال رہے کہ عبدالرحمان کاسگ نے والدین نے چار اکتوبر کو ایک ویڈیو پیغام میں دولتِ اسلامیہ سے رحم کی فریاد کرتے ہوئے اپنے بیٹے کی رہائی کی اپیل بھی کی ہے۔

اس اپیل میں کاسگ کے والدین نے کہا کہ ان کا بیٹا امدای ادارے میں کام کرتا تھا اور شام کے لوگوں کو مدد پہنچانے گیا تھا۔

كاسگ کے والدین نے امریکہ سے اپنا رویہ تبدیل کرنے کو بھی کہا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ امریکی حکومت پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔

اسی بارے میں