عراق کی لڑائی میں پختہ عزم ضروری ہے

امریکی جہاز
Image caption ۔ امریکہ اور برطانیہ نے دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں جس سے اس کے جنگوؤں کی پیش قدمی رک گئی تھی

مغربی ممالک کے دارالحکومتوں میں آپ ایسی بہت سی کہانیاں سنتے ہیں کہ عراق کے دوسرے سب سے بڑے شہر موصل میں خود کو اسلامی ریاست کہلانے والا گروہ ایک سخت نیا قانون نافذ کر رہا ہے۔

عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایک ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ ’وہاں خواتین ڈاکٹر کہتی ہیں کہ انہیں اتنے موٹے سرجیکل دستانے پہننے کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ انہیں پہنے ہوئے طبی کام نہیں کر سکتیں۔‘

ایک سیاستدان نے تو یہ بھی بتایا کہ ’بہت سے خاندان بستر کے نیچے ڈسپوزیبل ڈائپیرز یا لنگوٹ تک چھپا رہے ہیں کیونکہ انہیں بھی غیر اسلامی قرار دے دیا گیا ہے۔‘

آپ نے یہ خبریں بھی سنی ہوں گی کہ دولت اسلامیہ جس نے جون میں بجلی کی سی سرعت سے موصل اور عراق کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا اب اپنے جنگوؤں کو عراقی فوج سے زیادہ تنخواہ دے رہی ہے۔

اور آپ یہ تفصیلات بھی سن رہے ہوں گے کہ اس بڑے شمالی شہر پر قبضہ واپس لینے کے لیے کتنی بڑی جنگ کرنا پڑے گی جہاں دولت اسلامیہ بھی اپنی گرفت مضبوط کر رہی ہے۔

صدر براک اوباما کی طرف سے مقرر کردہ امریکی قیادت میں وسیع بین الاقوامی اتحاد کے معاون ریٹائرڈ امریکی میرین جنرل جان ایلن کہتے ہیں کہ ’یہ ایک جنگ نہیں ہے، ایک مہم ہے۔‘

Image caption عراق میں داعش کے جنگجو ایک ایک کے بعد ایک شہر پر قبضہ کرتے گئے ہیں

بغداد میں صحافیوں کے ایک گروہ کے ساتھ بریفنگ کے دوران جنرل جان ایلن سے پوچھا گیا کہ کیا موصل پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کا وقت کم رہ گیا ہے کیونکہ دولت اسلامیہ کے جنگوؤں کو غیر مسلح کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک جائز سوال ہے۔‘

انہوں نے احتیاط کے ساتھ ایک ایک لفظ پر غور کرتے ہوئے کہا کہ ’میں کہوں گا کہ یہ ایک سال کے اندر اندر ہو جائے گا۔‘

’میں اس سے زیادہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ کام شروع کب ہوگا۔ درست منصوبہ بندی اور تیاری ہونے کے بعد ہی نتائج عراقیوں کے حق میں ہوں گے۔‘

اسی طرح کی احتیاط بغداد میں دوسرے ذرائع نے بھی برتی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ’دولت اسلامیہ تیزی سے دفاعی پوزیشن مضبوط کر رہی ہے۔ ان کو وہاں سے نکالنا ایک لمبا عمل ہو گا۔‘

لیکن لڑائیاں تو عراق کے دیگر حصوں میں بھی کوئی کم مشکل نہیں ہوں گی۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ حساب کس طرح لگاتے ہیں، دولت اسلامیہ کے جنگجو عراق کے ایک تہائی سے لے کر ایک چوتھائی حصے تک قبضہ کیے ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption موصل میں جنگوؤں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور انہیں شکست دینے میں ابھی کافی وقت لگ سکتا ہے

آٹھ اگست سے لے کر اب تک ہونے والے سینکڑوں مغربی اور عراقی فضائی حملے بھی بنیادی طور پر نقشہ تبدیل کرنے میں ناکام رہے، تاہم اگر فضائی بمباری نہ ہوتی تو شاید اس سے بھی بدتر حالات نظر آتے۔

جب میں نے گزشتہ ہفتے بغداد میں عراق کے نئے وزیر اعظم حیدر العابدی کا انٹرویو کیا تو انہوں نے کہا کہ ’فضائی حملوں سے بہت فرق پڑا ہے۔‘

’ہم نے ان علاقوں میں کنٹرول اور خطرہ کم کر دیا ہے جہاں عراقی فورسز لڑ رہی ہیں۔

’مجھے فکر یہ ہے کہ ہمیں موصل اور انبار سمیت تمام علاقوں کو آزاد کرانا ہے اور مجھے ایسا کرنے کے لیے وہاں کے مقامی لوگوں کے دل جیتنے ہیں۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ فضائی حملے حال ہی میں تیز ہو گئے ہیں۔

ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے مجھے بتایا کہ ایسا اس لیے ہے کہ اب انہیں علاقے سے بہتر انٹیلیجنس موصول ہو رہی ہے۔ خاص طور پر بغداد کے مغرب میں واقع انبار صوبے کے سنی قبائلی رہنماؤں سے۔

لیکن انبار میں حالیہ لڑائیوں کی اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ علاقوں میں سنی قبائلی جو بغداد میں شیعہ اکثریتی حکومت کے خلاف ہیں دولت اسلامیہ کے ساتھ مل کر سرکاری فوج سے لڑ رہے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بری طرح سے منظم عراقی سیکورٹی فورسز کو شکست دی تھی۔

بغداد میں اپنے پہلے دورے پر آئے ہوئے جنرل ایلن نے بار بار اس بات کی اہمیت پر زور دیا ہے کہ عراقی فوج اور سنی قبائل کے درمیان ’جامع مذاکرات‘ ہونے چاہییں۔

اس کے علاوہ ایران کی طرف جھکاؤ رکھنے والے طاقتور مذہبی رہنماؤں کی وفادار شیعہ ملیشیا کو کس طرح اس لڑائی میں شامل کیا جائے۔

ان میں سے کچھ تو اب بھی بعض علاقوں میں عراقی فورسز کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں۔ لیکن بہت سے کھلم کھلا بین الاقوامی اتحاد، خصوصاً امریکہ اور برطانیہ کے جنگی جہازوں کو اس لڑائی میں شامل کرنے کی مخالفت کرتے ہیں۔

کچھ دن پہلے بغداد میں امریکی سفارت خانے پر میزائل پھینکے گئے تھے جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک شیعہ ملیشیا کی طرف سے پھینکے گئے تھے۔

وزیر اعظم العابدی نے ہمیں بتایا کہ ’میں نے ایرانیوں کو بتایا ہے کہ یہ بین الاقوامی اتحاد عراق کے فائدے کے لیے کام کر رہا ہے اس لیے انہیں خطرہ محسوس نہیں کرنا چاہیے، یہ ان کے لیے خطرہ نہیں ہے۔

اسی بارے میں