شام: کوبانی کی گلیوں میں شدید لڑائی جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY
Image caption کوبانی کے گرد اہم پہاڑیوں پر دولتِ اسلامیہ کے پرچم دیکھے جا سکتے ہیں

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے شام میں ترکی کی سرحد کے قریب واقع اہم قصبے کوبانی میں داخلے کے بعد اب شہر کی گلیوں میں کرد ملیشیا اور شدت پسندوں کے مابین شدید لڑائی ہو رہی ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند پیر کو قصبے کے تین علاقوں پر قابض ہوگئے ہیں اور اب قصبے کے مشرقی حصے میں بلند مقامات اور عمارتوں پر تنظیم کا سیاہ پرچم لہرا رہا ہے۔

منگل کی صبح امریکی قیادت میں اتحادی ممالک کے طیاروں نے کوبانی میں شدت پسندوں پر مزید بمباری بھی کی ہے۔

کوبانی کا قصبہ گذشتہ تین ہفتے سے شدت پسندوں کے محاصرے میں تھا اور وہ مسلسل پیش قدمی کر رہے تھے۔

دولتِ اسلامیہ کے اس اہم قصبے پر قبضے کی صورت میں اسے شام اور ترکی کی سرحد کے ایک وسیع علاقے کا کنٹرول مل جائے گا۔

لڑائی میں تیزی آنے کے بعد قصبے میں اب بھی موجود عام شہریوں کو بحفاظت نکالنے کے لیے کوششیں جاری ہیں کیونکہ ممکنہ قبضے کے بعد کوبانی میں دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں قتلِ عام کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

اب تک ایک لاکھ 60 ہزار سے زیادہ کرد یہ علاقہ چھوڑ کر نقل مکانی کر چکے ہیں۔

ترک سرحد پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کوبانی پر جنگی طیاروں نے منگل کو بڑا فضائی حملہ بھی کیا جبکہ ترک فوج کے ٹینک بھی شہر کے باہر ایک پہاڑی پر بدستور موجود ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اب تک ایک لاکھ 60 ہزار سے زیادہ کرد کوبانی سے نقل مکانی کر چکے ہیں

کوبانی کے ایک سرکاری اہلکار ادریس نسان نے بی بی سی کو بتایا کہ تین اطراف سے گھرنے کے بعد ’قصبہ جلد ہی شدت پسندوں کے قبضے میں جا سکتا ہے۔‘

انھوں نے تصدیق کی کہ قصبے کے باہر واقع اہم پہاڑی مستینور پر شدت پسند قابض ہیں اور وہاں سے شدید گولہ باری کی جا رہی ہے۔

کوبانی میں موجود کرد سیاستدان آسیہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ اس وقت قصبے میں تین مقامات پر لڑائی جاری ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کوبانی کی گلیوں میں جنگ ہو رہی ہے۔ قصبے میں اب بھی ہزاروں عام افراد موجود ہیں اور دولتِ اسلامیہ بھاری ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔ اگر انھیں ابھی نہیں روکا گیا تو بہت بڑا قتلِ عام ہوگا۔‘

آسیہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ شدت پسندوں کے ٹینکوں نے قصبے کو گھیر لیا ہے:’ انھوں نے تقریباً ہر طرف سے ہمیں گھیرا ہوا ہے اور شہر پر بھاری ہتھیاروں سے گولہ باری کر رہے ہیں۔ کرد جنگجو اپنے محددو ہتھیاروں کی مدد سے جتنا ممکن ہے مقابلہ کر رہے ہیں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کوبانی کا قصبہ گذشتہ تین ہفتے سے شدت پسندوں کے محاصرے میں تھا

کوبانی میں کردوں کے ترجمان مصطفیٰ بالی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ عام شہریوں کو قصبہ خالی کرنے کو کہہ دیا گیا ہے اور پیر کو بھی دو ہزار افراد نے شہر چھوڑا۔

امریکی مرکزی کمان نے دولتِ اسلامیہ پر مزید فضائی حملوں کی تصدیق بھی کی ہے اور کہا ہے کہ قصبے کے جنوب میں دولتِ اسلامیہ کی دو پوزیشنز کو تباہ کیا گیا ہے تاہم آسیہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں فضائی حملے ’غیر موثر‘ رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ان کے پاس بھاری ہتھیار اور ٹینک ہیں اس لیے ہماری مزاحمت محدود ہے اور ہمیں مزید فضائی حملوں کی ضرورت ہے۔‘

آسیہ کا کہنا تھا کہ ’باقی دنیا اس ممکنہ قتلِ عام کے بارے میں چپ سادھے ہوئے ہے۔‘

ترک شام سرحد کے قریب موجود بی بی سی کے نامہ نگار پال ایڈمز کا کہنا ہے کہ پیر کو دن بھر کوبانی سے فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں اور مکانات سے دھواں اٹھتا دکھائی دیتا رہا جبکہ اکا دکا دھماکے بھی ہوئے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کرد ملیشیا کوبانی کے دفاع کے لیے پرعزم ہے لیکن یہ اب اس کہانی کے اختتامی مرحلے کا آغاز لگ رہا ہے۔

اسی بارے میں