ملائیشیا میں بیئر میلے پر تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ Movida
Image caption فساد کی جڑ ایک اشاعتی پوسٹر بھی ہے جس میں ایک ویٹریس ایک کھلے گلے والا جرمن لباس میں ’سٹائن‘ بیئر کی بوتلیں پکڑی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ملائیشیا میں کچھ مسلمان گروہ ملک میں منعقد کیے جانے والے ’اکتوبر فیسٹ‘ یا بیئر کے میلے پر پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملائیشیا کے لوگ بیئر کے بارے میں اس میلے کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں اس لیے اس پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔

ملائیشیا کے روزنامہ ’ایکسپریس نیوز‘ کے مطابق پارلیمنٹ کے ایک رکن نے کہا کہ یہ ’ایک شیطانی اور گناہوں کا‘ میلہ ہے جو کہ ملائشیا کی ثقافت کا حصہ نہیں ہے اور وہ اس بیئر فیسٹول کے خلاف مہم چلائیں گے تا کہ وفاقی اور ریاستی حکومتیں اس کو روک سکیں۔

ملک کی ایک دوسری جماعت ’پین اسلامک پارٹی‘ کے رہنما نصیرالدین حسن نے اس بارے میں کہا کہ غیر مسلمان لوگوں کو شراب نوشی سے منع نہیں کرنا چاہیے لیکن لوگوں کو شراب نوشی کو اپنی ذات تک محدود رکھنا چاہیے اور اسے معاشرے میں پھیلانا نہیں چاہیے۔

نصیرالدین نے اپنے فیس بُک کے اکاؤنٹ پر بیئر کے میلے کو ایک ’بڑے پیمانے پر زنا‘ قرار دیا۔ لیکن ان کی پارٹی کے ایک ساتھی کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کو میلہ منعقد کرنے کا پورا حق ہے، تا وقتیکہ یہ مسلمانوں کو مائل نہ کرے۔‘

شراب نوشی کے علاوہ فساد کی جڑ ایک اشاعتی پوسٹر بھی ہے جس میں ایک خاتون کھلے گلے والے ایک جرمن لباس میں ’سٹائن‘ بیئر کی بوتلیں پکڑے ہوئے دکھائی دے رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Calrsberg
Image caption اشاعتی سٹنٹس میں ملائیشین خواتین بھیی کھلے گلے کے لباس میں دکھائی دیں۔

میلے سے متعلق اشاعتی مواد میں ملائیشین خواتین بھی اسی طرح کے لباس میں دکھائی دیں۔

ویب سائٹ ’مالے میل‘ کے مطابق قانون کے پروفیسر ڈاٹن نور ازیا محمد اول اس بیئر کے میلے پر پابندی عائد کرنے پر اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ میلہ ’غیر آئینی‘ ہے کیونکہ آئین کے مطابق کھلی جگہوں میں ایسے فنکشن نہیں رکھے جا سکتے جن میں شراب نوشی ہو۔‘

اسی بارے میں