کیا تاوان ادا کرنا درست ہے؟

فرانسیسی فوجی

شام میں امریکی صحافی اور برطانوی امدادی کارکنوں اور الجیریا میں ایک فرانسیسی سیاح کے قتل کے بعد حکومتوں کو ایک کشمکش کا سامنا ہے کہ کیا انہیں بچانے کے لیے تاوان ادا کیا جائے یا نہیں۔ کیا جانیں بچانے کے لیے رقوم ادا کی جائیں، یا کیا ایسا کرنے سے اغوا اور تنازعات کو فنڈ کرنے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے؟

مئی 2009 میں، سہارا ریگستان کے دور دراز علاقے میں موجود ایک عارضی کیمپ میں اسلامی عسکریت پسندوں کا ایک گروہ ایک برطانوی یرغمالی کو قتل کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔

ان کے قیدی ایڈون ڈائر کو تین دیگر یورپی سیاحوں کے ساتھ چار ماہ قبل اغوا کیا گیا تھا۔ وہ صحرا میں توریگ لوک موسیقی کے ایک سالانہ فیسٹیول میں شرکت کرنے کے لیے آئے تھے۔ انھیں مالی۔ نائیجر کی سرحد سے اغوا کیا گیا تھا۔

اس کی موت کی صبح ڈائر کو اس کے خیمے سے باہر لایا گیا اور ایک عسکریت پسند نے کہا کہ اس کو قتل کر دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption ڈائر کو معلوم تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے

ایک فرانسیسی صحافی سرج ڈینیل کہتے ہیں کہ اس نے کہا: ’اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ بے دین کے ساتھ کوئی تعلق نہ رکھا جائے، اور کیونکہ ایسا ہی ہے اس لیے اس یرغمالی کو قتل کر دیا جائے گا۔‘

ایک عینی شاہد نے کہا ڈائر بہت خوف زدہ تھے ’اور یقیناً انھیں معلوم تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔‘

ڈائر کو سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والےگیبریلا بارکو گریئنر اور وارنر گریئنر اور جرمنی کی 76 سالہ ریٹائرڈ ٹیچر ماریانے پیٹزولڈ کے ہمراہ اغوا کیا گیا تھا۔ اگرچہ انہیں اکٹھے اغوا کیا گیا تھا لیکن ان کی قسمت ایک دوسرے سے بہت مختلف تھی۔

پیٹزولڈ کو یاد ہے کہ وہ سب کس طرح شروع ہوا۔ انہوں نے گولیوں کی آوازیں سنی اور دیکھا کہ دو پک اپ ٹرکوں کا قافلہ آ رہا ہے۔ توریگ قبائلی نیچے اترے اور ان پر فرانسیسی زبان میں چلائے۔ وہ اس وقت تک ریت پر لیٹی رہیں جب تک قبائلیوں نے انہیں حکم نہیں دیا کہ وہ ٹرک پر چڑھ جائیں۔ ٹرک گولیوں کے خولوں اور کلاشنکوفوں سے لدا ہوا تھا۔ ابھی وہ اٹھ ہی رہی تھیں کہ ایک قبائلی نے انھیں دھکا دیا جس سے وہ گر پڑیں اور ان کی بازو کی ہڈی ٹوٹ گئی۔

وہ سارا دن سفر کرتے رہے۔ پیٹزولڈ پہلے ہی اپنی عینک کھو چکی تھیں بعد میں ان سب سے ان کے زیورات، گھڑیاں، جیکٹیں بھی لے لی گئیں۔ انھیں کہاگیا کہ نیلے رنگ کے جبا پہنیں جو توریگ قبائلی پہنتے ہیں۔

انھیں جلد ہی ایک مختلف گروپ کے حوالے کر دیا گیا۔

’انہوں نے ہمیں بتایا کہ اب آپ القاعدہ کے قیدی ہیں۔‘ انھیں اب اسلامی عسکریت پسندوں کو فروخت کر دیا گیا تھا۔

پیٹزولڈ کہتی ہیں کہ ان کے نئے اغوا کار ہر یرغمالی کو جانتے تھے۔

’یقینی طور پر ہمارے آنے سے پہلے ہمارے پاسپورٹ ان کے پاس پہنچ گئے تھے۔‘

گروپ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا رہا تھا، وہ کچھ دنوں کے لیے ایک وادی میں بھی رکے۔ وہاں ان کی ملاقات ایک 40 سالہ داڑھی والے شخص سے ہوئی جس کا نام عبدل حمید ابو زید بتایا گیا تھا۔ اس کے متعلق انھیں بتایا گیا کہ وہ اسلامی مغرب میں القاعدہ کا اعلیٰ کمانڈر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption ماریانا پیٹزولڈ اپنی رہائی کے بعد

قیدیوں کی تصاویر لی گئیں اور ہر یرغمالی سے یہ ریکارڈ کرایا گیا کہ ’ہم اپنی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر ہمیں رہا کروائیں۔‘ اغوا کاروں کے مترجم نے پیٹزولڈ کو بتایا کہ فکر نہ کریں جلد ہی انہیں رہا کر دیا جائے گا۔

اس کے بعد کیا ہوا وہ غیر واضح ہے۔ لیکن تین مہینے بعد پیٹزولڈ اور گیبریئلا گریئنر کو رہا کر دیا گیا۔ گرینئر کے شوہر کو مزید دو مہینے یرغمال رکھاگیا لیکن بالآخر انھیں بھی رہا کر دیا گیا۔ سیکیورٹی ماہرین کہتے ہیں کہ شاید انھیں چھڑانے کے لیے تاوان ادا کیا گیا لیکن جرمن حکام نے اس معاملے پر تبصرے سے انکار کیا ہے۔

اگرچہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ جرمنی نے تاوان ادا کیا تھا لیکن سوئس حکومت جو گریئنرز کی رہائی کے لیے متحرک ہوئی تھی اس کے سرکاری دستاویزات یہ بتاتے ہیں کہ وہاں پیسے کا ادل بدل ہوا تھا۔

سنہ 2009 میں سوئس حکومت نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کسی قسم کے بھی تاوان کی ادائیگی کی تردید کی تھی۔

لیکن ایک خصوصی سرکاری میٹنگ کے منٹس سے یہ پتہ چلتا ہے وزرا نے دو سوئس شہری چھڑانے کے لیے آنے والے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے رقم دینے کی منظوری دی تھی۔

سوئٹزرلینڈ کی پارلیمان کی اقتصادی امور کی کمیٹی کے مطابق ’فیڈرل فائنانس ڈیلیگیشن نے تین ملین فرانک (تین اعشاریہ دو ملین ڈالر) کی منظوری دی تھی جو کہ وفاقی کونسل نے طلب کیے تھے تاکہ مالی میں پھنسے ہوئے سوئس یرغمالیوں کو رہا کرایا جا سکے۔‘

محقق ولفرام لیچر کہتے ہیں کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی بھی حکومت نے اس قسم کا اقدام اٹھایا ہو۔

عام طور پر حکومتیں اس طرح کے سودوں کو خفیہ رکھتی ہیں۔

القاعدہ اور اس سے وابستہ دیگر گروہوں کو تاوان دینا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1904 کی خلاف ورزی ہے۔

اور امریکہ اور برطانیہ سمیت بعض حکومتیں اس تاوان نہ دینے کی اس قرارداد پر سختی سے عمل کرتی ہیں۔