کوبانی کے کنٹرول کی لڑائی شدید ہوگئی

 کوبانی
Image caption حالیہ حملوں کو کوبانی میں برسرِ پیکار دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف سب سے موثر حملے قرار دیا جا رہا ہے

کرد جنگجوؤں اور دولتِ اسلامیہ کے عسکریت پسندوں کے درمیان شام کی سرحد پر واقع قصبے کوبانی میں گھمسان کی جنگ جاری ہے۔

دوسری طرف امریکہ کی سرکردگی میں کارروائی کرنے والی اتحادی افواج نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی حملے جاری رکھے ہیں۔

شامی کرد جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ یہ حملے اب تک کے سب سے موثر حملے تھے مگر انھیں بہت پہلے کیا جانا چاہیے تھا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں دولتِ اسلامیہ کی پیش قدمی رک گئی ہے۔

اس سے قبل تک صدر رجب طیب اردوغان نے خبردار کیا تھا کوبانی دولتِ اسلامیہ کے ’قبضے میں جانے کے قریب‘ ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ چھ فضائی حملوں میں کوبانی کے نواح میں دولتِ اسلامیہ کا توپ خانہ تباہ کر دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول اور کرد اکثریتی شہر دیار بکر میں بھی شدید مظاہرے ہوئے

کوبانی میں موجود ایک اہلکار نے کہا ہے کرد فورسز اب دولتِ اسلامیہ کو پیچھے کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

کوبانی پر قبضہ دولتِ اسلامیہ کو شام اور ترکی کی سرحد پر ایک بڑے علاقے کا مکمل کنٹرول دے دے گا۔

یہ ہی وہ بنیادی راستہ ہے جس کے ذریعے غیر ملکی جنگجو شام آتے ہیں اور یہاں ہی سے دولتِ اسلامیہ اپنے زیرِ قبضہ آئل فیلڈز سے تیل باہر بیچ سکتی ہے۔

اس سے پہلے بی بی سی کے پال ایڈمز نےجو شام اور ترکی کی سرحد پر موجود ہیں، بتایا تھا کہ منگل کی سہ پہر کو مزید فضائی حملوں کی آوازیں سنی گئیں تھیں۔

کوبانی اور اس کے نواح میں تین ہفتوں سے جاری لڑائی میں اب تک چار سو کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ایک لاکھ 60 ہزار سے زیادہ شامی باشندے سرحد پار کرنے کے بعد ترکی میں پناہ لے چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY
Image caption استبول کے غازی عثمان پاشا ضلعے میں ترک حکومت کی جانب سے عدم تعاون کے خلاف ہونے والے مظاہرے کے بعد اٹھتا ہوا دھواں

میسا عبد ایک خاتون کرد کمانڈر ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کے نیوز آور پروگرام کو بتایا کہ ’گذشتہ رات سے ہم نے کوبانی کے ارد گرد اب تک کے سب سے موثر فضائی حملے دیکھے ہیں تاہم یہ کچھ تاخیر سے ہوئے ہیں۔ اگر اتحادیوں نے اس طاقت اور اثر کے ساتھ پہلے حملے کیے ہوتے تو ہم دولتِ اسلامیہ کو شہر کے قریب نہ پہنچتے دیکھتے اور بہت سی جانیں نہ ضائع ہوتیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اب ان کے اور اتحادیوں کے درمیان کچھ رابطے ہوئے ہیں جو نشانہ بنائے جانے سے متعلق ہیں مگر انھوں نے ان رابطوں کو بہتر بنائے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔

صدر اردوغان نے شامی مہاجرین کے ایک کیمپ میں دورے کے دوران تقریر کرتے ہوئے کہا کہ فضائی طاقت کے استعمال سے دولتِ اسلامیہ کو شکست نہیں دی جا سکتی۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے مغرب کو پہلے خبردار کیا تھا۔ ہم تین چیزیں درکار تھیں، نو فلائی زون، اس کے برابر ایک محفوظ زون اور اعتدال پسند شامی باغیوں کی تربیت۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ دہشت گردی اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک ہم زمینی کارروائی کے لیے تعاون نہ کریں۔‘ تاہم انھوں نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اب تک ایک لاکھ 60 ہزار سے زیادہ کرد کوبانی سے نقل مکانی کر چکے ہیں

ترکی کے مختلف شہروں میں منگل کو کرد شہریوں نے ترک حکومت کی جانب سے کوبانی کی حفاظت کرنے والوں کی فوجی امداد نہ کرنے پر غصے کا اظہار کیا۔

پولیس نے ان مظاہرین کے خلاف آنسو گیس اور پانی کی توپوں کا استعمال کیا مگر یہ بے چینی کم از کم چھ شہروں میں پھیل چکی ہے۔

اس کے علاوہ برسلز میں درجنوں کرد مظاہرین نے یورپی پارلیمنٹ کے شیشے توڑ دیے اور عمارت پر دھاوا بول دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کوبانی کا قصبہ گذشتہ تین ہفتے سے شدت پسندوں کے محاصرے میں تھا

برلن اور جرمنی کے دوسرے شہروں میں مظاہرے کیے گئے ہیں۔

نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے شام پر خصوصی ایلچی سٹیون ڈی مستورا نے کہا کہ شامی کردوں نے کوبانی کا بہت ہمت کے ساتھ دفاع کیا ہے اور عالمی برادری کو اب ان کی مدد کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہیں۔

تاہم انھوں نے یہ نہیں کہا کہ زمینی افواج کو اس لڑائی میں شامل ہونا چاہیے یا نہیں۔

اسی بارے میں