17MH: ’مسافر نے آکسیجن ماسک پہن رکھا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طیارے کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فضا میں ہی پھٹ گیا تھا جس کے بارے میں مسافروں کو پتہ نہیں ہو سکتا

ولندیزی وزیرِخارجہ فرنس تیمر منس نے کہا کہ ملائیشیئن ایئر لائنز کی پرواز ایم ایچ 17 کے 298 ہلاک شدہ مسافروں میں سے ایک کے بارے میں پتا چلا ہے کہ اس نے آکسیجن ماسک پہن رکھا ہوا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ طیارے کو میزائل لگنے سے تمام مسافر فوری طور پر ہلاک نہیں ہوئے۔

ایک ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ طیارہ ایک تیز رفتار چیز کے ٹکرانے کے نتیجے میں فضا ہی میں پھٹ گیا تھا۔

تیمرمنس نے اب کہا ہے کہ انھیں یہ بات کہنے پر افسوس ہے جس سے مسافروں کے لواحقین کو تکلیف پہنچی۔

انھوں نے اپنے اس بیان کے فوری بعد کہا کہ ’میں بالکل نہیں چاہوں گا کہ ان کی تکلیف میں اضافہ کروں۔ مجھے یہ نہیں کہنا چاہیے تھا۔‘

ولندیزی سرکاری وکیل استغاثہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک آکسیجن ماسک ملا ہے جو ایک مسافر کی گردن کے گرد الاسٹک کے ساتھ بندھا ہوا تھا۔ اس کے ڈی این اے اور انگلیوں کے نشانات کے ٹیسٹ لیے جا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ طیارہ مشرقی یوکرین میں باغیوں کے قبضے میں علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا

یہ طیارہ ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور کے لیے 17 جولائی کو پرواز کر رہا تھا کہ مشرقی یوکرین میں باغیوں کے قبضے میں علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا۔

روس نواز باغی اسے میزائل کے ذریعے مار گرانے کے الزام سے انکار کرتے ہیں۔

سرکاری وکیل نے جمعرات کو بتایا کہ اگرچہ 196 مسافر ولندیزی تھے لیکن جس مسافر نے آکسیجن ماسک پہنا ہوا تھا وہ ولندیزی نہیں تھے۔

ولندیزی میڈیا نے ان شخصیت کے بارے میں کہا ہے کہ ان کا تعلق آسٹریلیا سے تھا اور اور ان کے خاندان کو اطلاع کر دی گئی ہے۔

سرکاری وکیل نے بتایا کہ اس طیارے کے مسافروں میں سے کسی نے بھی آکسیجن ماسک نہیں پہنا ہوا تھا مگر اس مسافر نے جو ماسک پہنا ہوا تھا وہ ایک بوئنگ 777 طیارے کا تھا، مگر اس مسافر نے کیسے پہنا، اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ولندیزی وزیرِخارجہ فرنس تیمر منس کے اقوامِ متحدہ میں خطاب کے دوران اس حادثے کی تصویر کشی پر مقامی میڈیا میں انھیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

ولندیزی وزیرخارجہ کچھ عرصے میں اپنے عہدے کو چھوڑ کر یورپیئن کمیشن کے صدر یان کلوڈ ینکر کے اہم معاون بننے والے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے تیمر منس نے طیارے پر سوار مسافروں کے آخری لمحات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب انھیں احساس ہوا کہ طیارہ گر رہا ہے اور انھوں نے سوچا ہو گا اور ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا ہو گا آخری بار ایک غیر واضح الوداع کہا ہو گا۔‘

جب ان سے بدھ کی رات ایک ٹی وی پروگرام میں پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے حالات کی ایسی تصویر کشی کی جو حقیقت پر مبنی نہیں تھی تو انھوں نے جواب دیا کہ ’جی بالکل،‘ جس پر ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ اس بارے میں درست کہہ رہے ہیں؟

انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ مسافروں کو ضروری نہیں کہ پتہ ہو کہ کب میزائل طیارے سے لگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption علاقے میں جاری لڑائی کے باعث تحقیق کاروں کو جائے حادثہ پر جانے کا موقع نہیں ملا اور انھوں نے تکنیکی اور تصویری شہادتوں سے اپنی ابتدائی رپورٹ مرتب کی

اور اس میں اضافہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’کیا آپ کو پتہ ہے کہ کوئی ایسا بھی مسافر تھا جس نے اپنے چہرے پر آکسیجن ماسک پہنا ہوا تھا تو ان کے پاس اتنا وقت تھا کہ وہ ماسک پہن سکتے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ان 298 مسافروں کے آخری لمحات کے بارے کچھ بھی حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا۔

یاد رہے کہ ایم ایچ17 کی تباہی کے بارے میں سرکاری تحقیقات میں کسی مسافر کے آکسیجن پہننے کے بارے میں کوئی ذکر نہیں تھا۔

تاہم کئی ماہرین اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ طیارہ اتنی جلدی پھٹ گیا تھا کہ مسافروں کو شاید ہی کچھ پتہ چل پایا ہو۔

مسافروں کے خاندان اس بارے میں غصے میں ہیں کہ انھیں آکسیجن ماسک کے بارے میں پہلے کیوں نہیں بتایا گیا مگر انھیں سرکاری وکیل نے بتایا کہ کہ اس بارے میں تحقیقات جاری ہیں اور کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption طیارے پر سوار اکثر مسافروں کا تعلق نیدرلینڈز سے تھا جن کی باقیات مکمل سرکاری احترام کے ساتھ ملک واپس لائی جا رہی ہیں

تیمرمنس نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حادثہ ان کے دل کے بہت قریب ہے اور یہ کہ وہ ’لواحقین کے ساتھ گہری ہمدردی رکھتے ہیں۔‘

اگرچہ تفتیش کار اس علاقے میں جاری لڑائی کی وجہ سے جائے حادثے کا دورہ نہیں کر سکے تاہم انھوں نے جائے حادثہ پر طیارے کے بلیک باکس ڈیٹا ریکارڈر، ایئر ٹریفک کنٹرول اور سیٹیلائٹ تصاویر سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنا پر یہ بنیادی رپورٹ تیار کی ہے۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ ’طیارہ فضا میں ہی ٹوٹ گیا تھا، اور شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ باہر سے تیز رفتاری کے ساتھ آنے والی متعدد اشیا سے ٹکرایا تھا۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ کاک پٹ میں آواز کو ریکارڈ کرنے والے آلے سے کسی قسم کی تکنیکی خرابی یا ہنگامی صورت حال کی نشاندہی نہیں ہوتی۔