شمالی کوریا کا انسانی حقوق پر اپنی رپورٹ کا دفاع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے ایک اہلکار نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا: شمالی کوریا کا سماج تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے اور وہاں کچھ دقتیں ہو سکتی ہیں

شمالی کوریا نے اقوام متحدہ میں اپنے ملک میں انسانی حقوق کے حالات کے بارے میں اپنی ہی رپورٹ پر بحث کے لیے بریفنگ دی ہے جو اپنے آپ میں نادر بات ہے۔

ایک اہلکار نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ملک میں قیدیوں کی ’اصلاح‘ کے لیے لیبر کیمپ چلایا جاتا ہے، تاہم انھوں نے شمالی کوریا میں انسانی حقوق کے ریکارڈ کی تنقید کو ’بے پر کی بات‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

فروری میں جاری کی جانے والی اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا وسیع پیمانے پر اپنے عوام کے خلاف ’ناگفتہ بہ مظالم‘ ڈھاتا رہا ہے۔

شمالی کوریا کے بارے میں خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس نے دسیوں ہزار لوگوں کو جیل نما کیمپوں میں قید کر رکھا ہے۔

شمالی کوریاکے اہلکار چو میونگ نام نے صحافیوں اور غیرملکی سفارت کاروں کے سامنے دی جانے والی بریفنگ میں بتایا کہ شمالی کوریا میں ’کوئی جیل نما کیمپ‘ نہیں چل رہا، البتہ ’وہاں حراستی مراکز ہیں جہاں لوگوں کو ان کی غلطیوں کا احساس دلایا جاتا ہے اور ان کی ذہنی تربیت کی جاتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ شمالی کوریا کا ’سماج تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے اور وہاں کچھ دقتیں ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر ہمیں اقتصادی، سماجی اور دوسرے شعبوں میں مزید مراکز قائم کرنے کی ضروت ہو سکتی ہے تاکہ لوگوں کو بہتر حالاتِ زندگی فراہم کیے جا سکیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حال ہی میں شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات بحال کرنے پر ہامی بھری ہے

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انھوں نے ’بیرونی عوامل‘ کے طور پر معاشی حالات کو ذمےدار قرار دیا ہے جو کہ بظاہر شمالی کوریا کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کی جانب اشارہ تھا۔

یہ پابندیاں شمالی کوریا کی جانب سے جوہری اور بیلسٹک میزائلوں کے بار بار تجربوں کے بعد عائد کی گئی ہیں۔

مسٹر چو نے کہا کہ ’جوں جوں ملک آگے بڑھے گا، لوگوں کی خوشیوں میں مزید اضافہ ہوگا۔‘

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیاتھا کہ شمالی کوریا میں ’منظم اور وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالیوں کے شواہد ہیں۔‘

شمالی کوریا کے مفرور افراد سے لیے جانے والے انٹرویوز پر منبی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’گذشتہ پانچ دہائیوں کے دوران لاکھوں سیاسی قیدی ان کیمپوں میں تباہ ہو گئے ہیں۔‘

شمالی کوریا کی رپورٹ اقوام متحدہ کی دریافت کی نفی کرتی ہے۔ گذشتہ مہینے جاری کی جانے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’دشمن قوتیں لگاتار انسانی حقوق کے مسئلے کو اٹھاتی رہی ہیں تاکہ کوریا کی شبیہ کو تارتار کیا جائے اور کوریا کے عوام نے جس نظریے اور سماجی نظام کو اپنے لیے منتخب کیا ہے، اسے ختم کر دیا جائے۔‘

واضح رہے کہ یہ کھلی بریفنگ اس وقت سامنے آئی ہے جب شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے ساتھ اعلیٰ سطحی بات چیت بحال کرنے کے لیے رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

اسی بارے میں