فٹبال کی شائق سعودی خاتون پر تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عطلات کے مطابق حکومت شائقین خواتین کے لئے سٹیڈیمز میں الگ الگ حصوں کی تعمیر پر غور کر رہی ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں کھیلے جانے والے ایک فٹبال میچ کی ایک ویڈیو کلپ یو ٹیوب پر چار لاکھ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے تاہم اس کی وجہ کوئی شاندار گول نہیں بلکہ ایک خاتون تماشائی ہے۔

فٹبال سٹیڈیم میں سعودی خاتون تماشائی کی موجودگی کچھ سعودی مردوں کو پسند نہیں آئی اور انھوں نے سعودی ٹیم کے میچ ہارنے کے بعد اپنا غصہ سوشل میڈیا پر اس معاملے پر نکالا ہے۔

یہ میچ ایشیائی چیمپئنز لیگ کا سیمی فائنل تھا جس میں سعودی عرب کے کلب الہلال کو متحدہ عرب امارات کی ٹیم العین نے ایک کے مقابلے میں دو گول سے ہرایا۔

اس میچ کی ایک ویڈیو کلپ میں کیمرے کی نظر سعودی فٹبال ٹیم کی حامی اس خاتون پر بھی پڑتی ہے جنھوں نے مکمل طور پر ایک سیاہ عبایا اور نقاب پہنا ہوا ہے۔

سعودی عرب میں خواتین کے فٹ بال میچوں میں شرکت کرنے پر پابندی عائد ہے لیکن یہ میچ متحدہ عرب امارات میں ہوا جس کی وجہ سے یہ خاتون دیگر افراد کے ساتھ اپنی ٹیم کو کھیلتا دیکھ سکیں۔

نو سو سے زائد ناراض مردوں نے اس ویڈیو میں دکھائی دینے والی اس خواتین پر تنقید کی کیونکہ وہ ہزاروں مردوں کے ساتھ اس سٹیڈیم میں تھیں۔

ایک مرد نے لکھا: ’خواتین کو فٹبال میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، تو پھر سٹیڈیم میں جا کر ایک لائیو میچ دیکھنے کی کیا ضرورت ہے؟‘

ایک اور مرد نے کہا: ’اس خاتون کا کوئی شوہر نہیں ہے؟ اس کی جگہ گھر کے اندر ہے۔‘

خواتین کے سٹیڈیم جا کر میچ دیکھنے کے خلاف کئی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ان کا وہاں آنا غیر اخلاقی طرزِ عمل کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

لینا المینہ ایک سابق کھلاڑی ہیں جو سعودی عرب میں لڑکیوں کے کھیل کی حمایت کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ اس سوچ کےخلاف ہیں کہ خواتین کو ہراساں ہونے سے بچنے کے لیے گھر میں بیٹھنا چاہیے۔

وہ کہتی ہیں: ’خواتین کو بازاروں اور سڑکوں پر ہراساں کیا جاتا ہے، تو مجھے نہیں سمجھ آتی کہ وہ سٹیڈیمز میں کیوں نہیں آسکتیں۔ مجھے ایک مرد کی بری نظر کی وجہ سے سزا کیوں ملے؟‘

لیکن لینا یہ بھی کہتی ہیں کہ شاید اب مردوں کے رویے میں تبدیلی آ رہی ہے۔

سعودی عرب میں مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت شائقین خواتین کے لیے سٹیڈیمز میں الگ حصوں کی تعمیر پر غور کر رہی ہے۔

اسی بارے میں