جنگ میں قانون کس طرح ہتھیار بن سکتا ہے

غزہ تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption اسرائیل کے اندھا دھند حملوں سے غزہ کا ایک وسیع علاقہ کھنڈر بن چکا ہے

جدید دنیا میں جہاں کہیں بھی جنگ جاری ہے وہاں جنگی جرائم کے الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں۔

امریکی قیادت میں اتحادی فضائی افواج کے داعش پر حملوں کے ساتھ انسانی حقوق کے وکلاء بھی مشرق وسطی کے میدان جنگ کا جائزہ لینا شروع ہو گئے ہیں۔

دوسری طرف اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع میں ایک دوسرے پر الزامات لگانا اور بین الاقوامی رائے عامہ کی جنگ جیتنے کی کوشش کرنا بالکل موسم گرما کی تلخ لڑائی کے بعد ایک ناگزیر ایکٹ کی طرح محسوس ہوتا ہے۔

حماس کے خلاف اسرائیلی مقدمہ نسبتاً آسان ہے۔ یہاں ایک ایسی تنظیم ہے جس نے اسرائیل کو تباہ کرنے کی قسم کھائی ہے اور جو اپنے شہریوں کے درمیان سے اندھا دھند اسرائیل پر راکٹ پھینکتی ہے۔ دونوں ہی جنگ کے قوانین کی خلاف ورزیاں ہیں۔

بااثر فلسطینی سیاستدان مصطفیٰ برغوطی جو حال ہی میں ہونے والی بمباری کے دوران غزہ میں موجود تھے اسرائیل کے خلاف ایک چارج شیٹ دیتے ہیں۔

’ان کے جنگی جرائم میں مجموعی طور پر طاقت کا بے جا استعمال، عام شہریوں کو نشانہ بنانا، اور بچوں کو نشانہ بنانا اور ہلاک کرنا شامل ہے۔‘

Image caption اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ اخلاقی اعتبار سے ان کی فوج ایک بہتر فوج ہے

’اس کے علاوہ وسیع علاقے کو بلا امتیاز تباہ کرنا، اور ممنوع اسلحہ جیسا کہ استعمال شدہ یورینیئم اور ایسا مواد جس سے کینسر پھیل سکتا ہے استعمال کرنا ہے۔‘

ایک بہت اہم نقطہ یہاں یہ بھی ہے کہ غزہ میں پورے کے پورے محلوں کے بلا جواز بڑے پیمانے پر تباہ کیا گیا جس میں شیجائیہ جیسے پورے علاقے کی تباہی بھی شامل ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے پہلے ہی کینیڈا کے بین الاقوامی قانون کے پروفیسر ولیم سکیبس کی سربراہی میں ایک آزاد کمیشن قائم کیا ہے۔ لیکن اسرائیل اس کو پہلے ہی ایک جعلی عدالت قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ اس کے خلاف متعصب ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ غزہ کی مہم کے دوران ہونے والے ایک سے زیادہ واقعات کی پہلے ہی تحقیقات کر رہی ہے۔ لیکن یہ تصور کرنا بھی مشکل ہے کہ اسرائیل کے فوجی وکلاء کیسے اپنے خلاف ہی مؤثر طریقے سے تحقیقات کر سکیں گے۔

یہ بین الاقوامی عدالت میں مقدمے کا خوف ہی تھا کہ اسرائیل نے لڑائی بند ہونے سے پہلے ہی تحقیقات شروع کر دی تھیں۔

غزہ کے تنازع کی سب سے زیادہ چونکا دینے والی کہانیوں میں سے ایک وہ تھی جب سمندر کے کنارے کھیلتے ہوئے چار چھوٹے بچے اسرائیلی میزائل کا نشانہ بنے۔ ریت پر جانے بچانے کے لیے بھاگتے ہوئے بچوں کی تصاویر ناقابل برداشت دکھ دینے والی ہیں۔

اسرائیل کے نائب فوجی اٹارنی جنرل کرنل ایلی بار کہتے ہیں کہ اسرائیل نے جنگ کے حوالے سے اپنے فوجی کمانڈروں کو بہت سخت طریقہ کار سکھایا ہے اور اہداف کی منظوری کے لیے بہت واضح طریقۂ کار ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے تجربے کے مطابق بہت سے افسر جب دیکھتے ہیں کہ اس سے وسیع پیمانے پر تباہی ہو سکتی ہے تو وہ حملے کو روک دیتے ہیں، چاہے اس حملے کی منظوری فوجی وکلاء نے بھی دی ہو۔

انھوں نے کہا کہ ’کئی مرتبہ آپ کو غلط انٹیلیجنس ملتی ہے، اور کبھی کبھار آپ سے غلطیاں بھی ہوتی ہیں۔ اس طرح کی چیزیں ہوتی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی قصور وار ہے۔‘

دوسرے لفظوں میں کیونکہ کچھ بہت برا ہوا ہے اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں جنگی جرائم سرزد ہوئے ہیں۔

اسرائیل کو اپنے مقدمے پر بہت بھروسہ ہے۔ گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیو یارک جاتے ہوئے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیل کی مسلح افواج دنیا کی سب سے زیادہ ’اخلاقی افواج‘ ہیں۔

لیکن فلسطینیوں کو بھی اپنے مقدمے پر بہت اعتماد۔ اس طرح کی بھی باتیں ہو رہی ہیں کہ اگر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری امن معاہدہ ٹوٹ جاتا ہے تو ہو سکتا ہے فلسطینی قیادت اپنا مقدمہ انصاف کی بین الاقوامی عدالت (آئی سی سی میں لے جائے)۔

اسی بارے میں