صرف فضائی کارروائی سے کوبانی نہیں بچ سکتا: امریکہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آج رات دولت ِاسلامیہ کے جنگجو دو اضلاع میں بھاری اسلحے کے ساتھ داخل ہوئے جس میں ٹینک بھی شامل تھے: کرد رہنما

دولتِ اسلامیہ نے شام کے سرحدی قصبے کوبانی پر قبضہ کرنے کے لیے دوبارہ پیش قدمی شروع کر دی ہے جبکہ امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ صرف فضائی کارروائی کے ذریعے کوبانی کو نہیں بچایا جا سکتا۔

ایک کرد رہنما نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجو سخت لڑائی کے بعد شہر کے مختلف حصوں میں داخل ہو چکے ہیں۔

کوبانی میں کردوں کی نمائندگی کرنے والی کردش ڈیموکریٹک یونین پارٹی کی شریک سربراہ آسیہ عبداللہ نے کہا کہ ’آج رات دولت ِاسلامیہ کے جنگجو دو اضلاع میں بھاری اسلحے سمیت داخل ہوئے جس میں ٹینک بھی شامل تھے۔ عام شہریوں کی ہلاکتوں کا خدشہ ہے کیونکہ طرفین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔‘

ایک اور اہلکار نے بتایا کہ دولتِ اسلامیہ نے شہر کے مشرق میں کئی عمارتوں پر قبضہ کر لیا ہے اور ان کی کرد فورسز کے ساتھ شدید لڑائی جاری ہے۔

برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق بدھ کی شام تک دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے شہر کے مرکز کی طرف 100 میٹر تک پیش قدمی کی تھی۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ یہاں لڑائی کے لیے تازہ دستے صوبہ رقہ سے لا رہی ہے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان کے فضائی حملوں میں دولتِ اسلامیہ کے کئی ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود وہ ’کوبانی پر قبضہ‘ کر سکتے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے بدھ کو دیر سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ آٹھ فضائی حملوں میں کوبانی میں اہداف کا نشانہ بنایا گیا ہے جس میں دولتِ اسلامیہ کی پانچ گاڑیاں، ایک سپلائی ڈپو اور دیگر عمارتوں کو تباہ کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ’ایسا لگتا ہے کہ اب بھی کوبانی کے اکثر حصے پر کرد ملیشیا کا کنٹرول ہے۔‘

لیکن ایک علیحدہ نیوز بریفنگ میں پینٹاگون کے ترجمان ریئر ایڈمرل جان کربی نے کہا کہ ’صرف فضائی حملوں سے کوبانی کو نہیں بچایا سکتا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ صرف فضائی کارروائیوں سے کوبانی کو نہیں بچایا جا سکتا اور ہم یہ بار بار کہتے رہے ہیں۔‘

برطانوی وزیرِ خارجہ فلپ ہیمنڈ نے بھی اس قسم کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کبھی نہیں سوچا گیا تھا کہ اس جنگ کے دوران فضائی کارروائی سے مختصر مدت کے لیے پانسہ پلٹ جائے گا۔

امریکی ترجمان کا مزید کہنا تھا: ’ہمارا ابھی شام کی سرزمین پر کوئی ایسا موثر ساتھی نہیں ہے جس پر اعتبار کیا جا سکے۔‘

امریکہ سعودی عرب میں اعتدال پسند شامی باغیوں کی تربیت کر رہا ہے لیکن اس پر کئی مہینے لگیں گے۔

جب پینٹاگون کے ترجمان سے پوچھا گیا کہ اس کا مطلب ہے کہ کوبانی پر دولتِ اسلامیہ قابض ہو جائے گی تو انھوں نے کہا: ’ہم سب کو یہ حقیقت تسلیم کرنے کے لیے تیار ہونا چاہیے کہ دیگر قصبوں، دیہات اور شاید کوبانی پر بھی دولتِ اسلامیہ قابض ہو جائے گی۔‘

کوبانی پر قبضہ دولتِ اسلامیہ کو شام اور ترکی کی سرحد پر ایک بڑے علاقے کا مکمل کنٹرول دے دے گا۔

یہی وہ بنیادی راستہ ہے جس کے ذریعے غیر ملکی جنگجو شام آتے ہیں اور یہیں سے دولتِ اسلامیہ اپنے زیرِ قبضہ آئل فیلڈز سے تیل باہر بیچ سکتی ہے۔

کوبانی اور اس کے نواح میں تین ہفتوں سے جاری لڑائی میں اب تک 400 کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ایک لاکھ 60 ہزار سے زیادہ شامی باشندے سرحد پار کرنے کے بعد ترکی میں پناہ گزین بنے ہیں۔

کرد جنگجوؤں اور دولتِ اسلامیہ کے عسکریت پسندوں کے درمیان شام کی سرحد پر واقع قصبے کوبانی میں گھمسان کی جنگ جاری ہے۔

اسی بارے میں