ہزاروں برطانوی ’بھلا دیے جانے‘ کے خواہش مند

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ۔لنکس ہٹانے کے لیے ہر دس درخواستوں میں سے ایک برطانیہ سے آئی۔

یورپ میں موجود پرائیویسی کے قونین کے تحت گوگل کی ویب سائٹ کو معلومات کے تحفظ سے متعلق آنے والی ہر دس درخواستوں میں سے ایک برطانیہ سے ہے۔ ان درخواستوں میں گوگل سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے سرچ نتائج سے ویب لنکس ہٹائیں۔

گوگل کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ مئی سے اب تک 498,000 سے زائد لنکس کو سرچ کے نتائج میں سے نکال دیا ہے۔ ان میں سے 63 ہزار صفحات ایسے تھے جن کے بارے میں درخواستیں برطانیہ سے آئی تھیں۔

گوگل کا کہنا ہے کہ کل 18,304 درخواستیں برطانیہ سے آئیں تھیں، جو یورپ سے آنے والی درخواستوں میں تیسرے مقام پر ہیں۔

یہ کاروائی یورپی عدالت انصاف کے فیصلے کے بعد کی جا رہی ہے جس میں قانون کے تحت غیر متعلقہ اور فرسودہ ڈیٹا ہٹایا جا سکتا ہے۔

لیکن اس فیصلے نے انٹرنیٹ پر سنسر شپ کی تنقید کی بحت کو ایک مرتبہ پھر زندہ کر دیا ہے۔

گوگل کی ویب سائٹ پر جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق، اس نے برطانیہ سے آنے والی درخواستوں کے تحت 35 فیصد یا اٹھارہ ہزار چار سو انسٹھ ناپسندیدہ لنکس کو ہٹا دیا ہے۔

گوگل نے شفافیت سے متعلق اپنی رپورٹ میں مخلتف درخواستوں کی مثالیں اور ان پر سنائے گئے فیصلے بھی فراہم کیے ہیں۔

گوگل کا کہنا ہے کہ اس نے ایک برطانوی سرکاری اہلکار کی درخواست کو مسترد کر دیا کیونکہ وہ ایک طلبا تنظیم کی آن لائن دوخواست کو ہٹانا چاہتے تھے جس میں ان کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اسی طرح گوگل نے ایک برطانوی مذہبی رہنما کی درخواست کو بھی مسترد کر دیا کیونکہ انھوں نے اپنے بارے میں دو آن لائن مضامین کو ہٹانا چاہا جو ان کے حوالے سے جنسی استحصال کے الزامات کی تحقیقات کے بارے میں تھے۔

گوگل نے مزید کہا کہ اس نے ایک اور درخواست کو بھی مسترد کر دیا تھا جس میں میڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے چار لنکس ہٹانے کا مطالبہ کیا جن میں انھوں نے ’انٹرنیٹ پر کچھ شرمناک چیزیں‘ پوسٹ کی تھیں۔

گوگل کے مطابق ایک ڈاکٹر نے پچاس لنکس ہٹوانا چاہے جن میں ان سے متعلق اخباروں کے مضامین ان کے ایک ناکام آپریشن کے بارے میں لکھے گئے تھے۔

یورپ میں سب سے زیادہ متاثر ویب سائٹس میں فیس بک اور یوٹیوب شامل تھیں۔ فیس بک کے3,353 لنکس ہٹائے گئے جبکہ یوٹیوب کے 2,392 لنکس ہٹائے گئے۔

اسی بارے میں