ترکی کی دولتِ اسلامیہ کے خلاف ’اپنے فوجی آڈے استعمال کرنے کی اجازت‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترکی نے ابھی تک خود کو دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی سربراہی میں قائم ہونے عالمی اتحاد کی کارروائیوں سے دور رکھا تھا

امریکہ کی قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس نے کہا ہے کہ عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے کے لیے ترکی اتحادی فورسز کو اپنے فوجی آڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے پر رضامند ہو گیا ہے۔

سوزن رائس نے کہا کہ امریکہ اس نئے معاہدے کا خیر مقدم کرتا ہے جس میں ترکی ملک کے جنوب میں واقع انسرلک نامی اییر بیس کے استعمال کی اجازت دینے پر راضی ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ عراق و شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی حملے کر رہا ہے جبکہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے گذشتہ مہینوں کے دوران عراق و شام کے بہت سے حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔

ترکی کی اس جنگ میں کلیدی اہمیت نظر آتی ہے کیونکہ اس کی سرحدیں دونوں ممالک سے ملتی ہیں لیکن اب تک انھوں نے اپنی سر زمین سے کسی زمینی کارروائی کو خارج از امکان قرار دے رکھا ہے۔

امریکی ٹی وی چینل این بی سی سے بات کرتے ہوئے سوزن رائس نے کہا کہ ترکی حال ہی میں اپنے ہوائی اڈے اور اپنے خطے کو امریکہ کے استعمال کے لیے دینے پر راضی ہوا ہے تاکہ وہاں سے ’معتدل شامی حزب اختلاف کی عسکری قوت کو تربیت دی جا سکے اور وہاں سے عراق و شام میں سرگرمیاں جاری رکھی جائیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ نیا عہد ہے اور ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘

گذشتہ ہفتے ترکی کے وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ اکیلے ترکی سے دولت اسلامیہ کے خلاف زمینی کارروائی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

انقرہ میں نیٹو کے نئے سربراہ جینز سٹولٹنبرگ سے ملاقات کے بعد وزیر خارجہ مولود جاوشوغلو نے شام کے ساتھ لگنے والی اپنی سرحد کو ’نو فلائی زون‘ قرار دینے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اب تک ترکی نے دولت اسلامیہ کے خلاف اپنی سر زمین سے کسی زمینی کارروائی کو خارج از امکان قرار دے رکھا ہے

ترکی کو شام کے قصبے کوبانی میں دولت اسلامیہ کے خلاف کرد جنگجوؤں کی زیادہ سے زیادہ مدد کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا رہا ہے۔ دوسری جانب دولتِ اسلامیہ نے شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم کر رکھا ہے۔

ترکی اتحادی فورسز کو انسرلک فضائی آڈے کو استعمال کرنے کی اجازت دے گا جو شام کی سرحد سے تقربیاً 160 کلو میٹر کے فاصلے پرو واقع ہے۔

امریکی اور ترک حکام کے درمیان دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں ترکی کے واضح کردار پر بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا۔

امریکہ کی سربراہی میں اتحادی فورسز کے فضائیہ نے عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں لیکن پینٹاگون کے ایک ترجمان کے مطابق شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف صرف فضائی کارروائی ہی کافی نہیں بلکہ زمینی کارروائی بھی ضروری ہے۔

ترکی نے شام میں دولتِ اسلامیہ کے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر نظر رکھنے کے لیے اپنی سرحد پر ٹینک تو کھڑے کر دیے ہیں لیکن شام میں کوئی براہِ راست ’مداخلت‘ نہیں کی۔

Image caption واضح رہے کہ کوبانی دولت اسلامیہ اور کرد باشندوں کے بیچ جنگ کا اہم محاذ بنا ہوا ہے

ترکی نے ابھی تک خود کو دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی سربراہی میں قائم ہونے عالمی اتحاد کی کارروائیوں سے دور رکھا تھا۔ اس کی ایک وجہ کردوں کو مسلح کرنے کے بارے میں ترکی کے تحفظات تھے۔ ترکی اپنے ملک میں کرد اقلیت کے خلاف طویل جنگ لڑ چکا ہے۔

ترکی کی کرد اقلیت نے ترک حکومت سے شام کے سرحدی قصبے کوبانی میں دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی کرنے کے حق میں مظاہرے بھی کیے تھے۔ ان مظاہروں میں تقربیاً 20 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ترک پارلیمان بھی ترک فوج کو شام اور عراق میں داخل ہو کر دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کرنے کی اجازت دینے کی قراداد منظور کر چکی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ تین ہفتوں سے کوبانی دولت اسلامیہ اور کرد باشندوں کے بیچ جنگ کا اہم محاذ بنا ہوا ہے اور جاری جنگ کی وجہ سے لاکھوں شامی باشندے جن میں اکثریت کردوں کی ہے وہ وہاں سے ترکی بھاگنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں