’دولتِ اسلامیہ کوبانی سے بہت حد تک پسپا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی قیادت میں لڑنے والی افواج نے منگل اور بدھ کو کوبانی اور اس کے نواح میں 18 فضائی حملے کیے

شام میں ایک کرد کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو دفاعی اہمیت کے حامل شہر کوبانی کے دو حصوں کے علاوہ تمام علاقوں سے نکال دیا گیا ہے۔

شہر کے مشرق میں آپریشن کی انچارج کمانڈر بحرین کندال نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی فضائی حملوں کی وجہ سے دولتِ اسلامیہ کے جنگجو پسپا ہونے پر محبور ہوئے۔

علاقے میں کرد ملیشیا کی انچارج کمانڈر نے امید ظاہر کی ہے کہ دولتِ اسلامیہ سے تمام شہر کو جلد خالی کرا لیا جائے گا۔

اس سے پہلے ایک کرد اہلکار ادریس نسان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ دولتِ اسلامیہ نے حالیہ دنوں میں شہر کے 20 فیصد سے زیادہ حصے سے کنٹرول کھو دیا ہے۔

امریکی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ کوبانی میں بڑھتے ہوئے امریکی فضائی حملوں میں سینکڑوں جنگجو مارے جا چکے ہیں۔

یہ خبر ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب امریکی صدر براک اوباما اور یورپی رہنماؤں نے عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کی پیش قدمی روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک ویڈیو کانفرنس میں صدر اوباما اور برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کے رہنماؤں نے عراق میں ایک ’ہمہ گیر سیاسی حکمتِ عملی‘ کی پشت پناہی میں اضافہ کرنے اور عراقی و شامی افواج کی تربیت میں مدد دینے پر اتفاق کیا۔

ادریس نسان نے بتایا تھا کہ کردوں کے وائی پی جی جنگجو کوبانی میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا: ’چند دن پہلے تک دولتِ اسلامیہ کے پاس کوبانی کے 40 فیصد حصے کا کنٹرول تھا، لیکن اب ان کے پاس 20 فیصد سے کم حصہ رہ گیا ہے۔

ان کے مطابق: ’آج وائی پی جی نے کوبانی کے جنوب مشرقی علاقوں میں کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔‘

امریکی محکمۂ دفاع کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ محصور شہر اور اس کے نواح میں ’سینکڑوں جنگجو‘ مارے گئے ہیں، تاہم یہ ’اب بھی دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں میں جا سکتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’دولتِ اسلامیہ نے یہ بات چھپائی نہیں کہ وہ اس شہر پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، اس لیے وہ کوبانی میں مسلسل جنگجو بھیجے چلے جا رہے ہیں۔‘

دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں خصوصی امریکی ایلچی جان ایلن نے کہا کہ فضائی حملوں کا مقصد شہر کی دفاعی فوج کو مدد فراہم کرنا ہے:

’دفاعی فوج کو اضافی مدد کی ضرورت تھی تاکہ وہ اپنے دستوں کو منظم کر سکیں۔‘

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی قیادت میں لڑنے والی افواج نے منگل اور بدھ کو کوبانی اور اس کے نواح میں 18 فضائی حملے کیے۔

اس دوران جنگی پوزیشنیں تباہ کی گئیں اور 16 عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اسی بارے میں