تیل کی گرتی قیمتیں یا امریکی داؤ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے عالمی سطح پر بہت سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں

تیل کی قیمتوں میں کمی جو پیٹرول پمپس پر بھی نظر آئے وہ مغربی صارفین کی زندگیاں کچھ آسان کر دے گی۔ کیا یہ امریکی وار یا ضرب روس اور ایران کے خلاف کارگر ثابت ہو گا۔

یہ نتیجہ اخد کیا ہے نیویارک ٹایمز کے کالم نگار تھامس ایل فرائڈ مین نے جو کہتے ہیں کہ امریکہ اور سعودی عرب، سوچے سمجھے منصوبے یا حادثاتی طور پر روس اور ایران کی معیشت کو تباہی کے دھانے پر پہنچا رہے ہیں۔

فرائڈ مین مزید لکھتے ہیں کہ دنیا کے تیل پیدا کرنے والوں ملکوں، لیبیا، عراق، نائجیرہ اور شام میں بدامنی کے باوجود تیل کی قیمتیں اتنی کم ہو گئی ہیں جتنی کئی برسوں میں دیکھنے میں نہیں آئیں۔

تجزیہ کار تیل کی قیمتوں میں اس قابل قدر کمی کی کئی ایک وجوہات بیان کرتے ہیں۔ جن میں امریکہ کی پیداوار میں اضافہ، یورپ اور چین کی معیشتوں میں سست روی اور تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی پیداوار میں استحکام۔

فرائڈ مین قیمتوں میں کمی کے اسباب کے بجائے اس کے نتائج کا جائزہ لیتے ہیں روس اور ایران میں بجٹ کا خسارہ اور اس کا کیا مطلب ہے۔

وہ پوچھتے ہیں فائدہ کس کو ہو گا؟ ۔ امریکہ چاہتا ہے کہ روس پر یوکرین کے حوالے سے لگائی اقتصادی پابندیوں کا زیادہ اثر ہو۔ دوسری طرف امریکہ شام میں ایران کے خلاف غائبانہ جنگ لڑ رہا ہے۔

لاس اینجلس ٹائمز کے پال ریچر اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ دونوں، روس اور ایران تیل کی قیمیتوں کا اثر محسوس کریں گے۔ تاہم وہ اتنی دور کی کوڑی نہیں لاتے کہ اسے کوئی خفیہ جنگ قرار دیں۔

ریچر کا کہنا ہے کہ معاشی دباؤ میں ولادمیر پوتین یورکرین پر اپنا اثرورسوخ برقرار رکھنے کے لیے جارحانہ طرز عمل نہیں بدلیں گے۔ لیکن معاشی دباؤ سے ولادمیر پوتین کے روس کی اشرافیہ اور بزنس کلاس سے تعلقات میں تناؤ پیدا ہو سکتا ہے جو ان کی سیاسی حمایت کے دو اہم ستون ہیں۔

جہاں تک ایران کا تعلق ہے تیل کی قیمت سو ڈالر فی بیرل سے کم ہونے سے اس کو اتنا بڑا خسارہ ہو گا کہ جوہری پروگرام پر مغربی طاقتوں سے مذاکرات میں اس کی پوزیش کمزور پڑے جائے گی۔ تیل کی بین الاقوامی منڈی میں قیمت بدھ کو 81 اعشاریہ چار صفر ڈالر فی بیرل تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ getty images
Image caption تھامس فرائڈ مین کا نظریہ ہے کہ نئی سرد جنگ شروع ہو گئی ہے

فرائڈ کا کہنا ہے کہ ایران کی معاشی بہتری کی وجہ سے ایرانی حکام کی مذاکرات میں پوزیش بہتر ہوئی تھی اور ایرانی مذاکرات کاروں کو خیال ہو گیا تھا کہ مذاکرات کی ناکامی اور مزید اقتصادی پابندیوں کے باوجود وہ وہ حاصل کر سکتے جو وہ کرنا چاہتے ہیں۔

روس میں ذرائع ابلاغ نے بھی اس کو بھانپ لیا ہے۔

ایک روسی اخبار اپنے اداریے میں لکھتا ہے کہ روس کی معیشت کا توانائی کے ذرائع تیل اور گیس پر اس حد تک انحصار ہے کہ اسے اکثر ایک نشے سے تشبیہہ دی جاتی ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ تیل کی سوئی پر ہے۔‘

اس معاملے میں تیل کی قمیتوں میں کمی کو بجا طور پر ایسی تکلیف دینے کے مترادف قرار دیا ہے کہ جیسے منشیات کے عادی کو نشہ نہ کرنے دیا جائے۔ اور ایسا واضح طور پر عالمی سیاسی مقاصد کے تحت کیا جا رہا ہے کہ ملک کی معیشت کو کمزور کر کے عالمی میدان میں اس کا اثر و رسوخ کم کیا جا سکے۔

نوکولائی میکیایو اور کونسٹنٹائن سمرنوف کا خیال ہے کہ سنہ 2008 اور سنہ 2009 سے شدید معاشی بحران آنے والا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ امید ہی کی جا سکتی ہے کہ شیخ عقل سے کام لیں گے اور پیدوار کم کرکے قیمتوں میں استحکام پیدا کرنے کی کوشش کریں گے کم از کم نوے ڈالر فی بیرل پر لے آئیں گے۔‘

فرائڈ کی نئی سرد جنگ کا نظریہ ہی صرف اس وقت گردش نہیں کر رہا۔ مبصرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی امریکہ میں تیل کی پیداوار میں اضافہ کی وجہ سے ہے اور یہ تیل پیدا کرنے والے ملکوں میں سعودی عرب کی حیثیت کے لیے بھی خطرے کا باعث ہے۔

روس اور ایران اس سارے پس منظر میں معصوم خاموش تماشائی نہیں ہیں۔

بھارت کے تجزیہ کار اکیل ہداد لکھتے ہیں کہ:’سعودی عرب نے عالمی سیاسی بحرانوں میں تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھا ہے، پہلے ایران کے لیے جگہ بنا کر، شام اور سوڈان کی پیدوار میں کمی کر کے اور پھر عراق کی بڑھتی ہوئی پیداوار کی گنجائش پیدا کر کے۔

لیکن گزشتہ چھ برس میں امریکہ کی تیل کی پیداور میں ستر فیصد اضافے کے بعد صورت حال مختلف ہو گئی۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ سعودی عرب توازن برقرار رکھنے کے لیے شیل تیل پیدا کرنے والوں کے مقابلے میں اپنی کم پیدواری قیمت کا فائد اٹھانے کی کوشش کرے گا۔ سعودی عرب غالباۙ تیل کی قیمتوں کو 75 اور 80 ڈالر فی بیرل کی سطح تک گرنے دے گا اور قیمتوں کو اس سطح پر کچھ عرصے تک برقرار رہنے دے گا تاکہ امریکہ میں تیل پیدا کرنے والوں کے لیے اس دھندے میں رہنا مشکل ہو جائے اور یوں اس کی تیل کی قیمت کا متعین کرنے کی طاقت بحال ہو جائے گی۔

جو بات صاف ہے وہ یہ ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اتنی کمی سے عالمی سٹیج پر فتح اور شکست بڑی واضح ہو گی۔ جو بات واضح نہیں ہے وہ یہ ہے کہ اس سب کہ پیچھے اگر کوئی ہے تو کون ہے۔

یہ انسانی نفسیات ہے کہ جن چیزوں میں نقصان اور فائدہ اس قدر زیادہ ہو ان کے پیچھے سازشیں ڈھونڈتا ہے۔