ایبولا بحران: ڈبلیو ایچ او کی ’ناکامی‘ پر سوالات

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او پر بیماری کے ابتدائی دور میں سستی برتنے کا الزام لگایا گيا ہے

عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنظیم افریقہ میں ایبولا سے بروقت نمٹنے میں ناکام رہی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں اس ناکامی کی وجہ خراب ترسیل اور عملے کی نااہلی کو قرار دیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس میں شامل افراد نوشتۂ دیوار پڑھنے میں ناکام رہے۔

ڈبلیو ایچ او کے قریبی ذرائع نے بلوم برگ کو بتایا کہ ایبولا کے پھیلاؤ کے ابتدائی مراحل میں مختلف ناکامیاں رہیں۔

عالمی ارارۂ صحت کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ایلبولا پر قابو پانے میں ناکامی کے حوالے سے تفتیش کا وقت آ گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ڈبلیو ایچ او کی گلوبل رسپانس ہیڈ ایزابیل نوٹال کا کہنا ہے کہ اس وقت تک یہ بیماری مغربی افریقہ میں عام نہیں تھی اور صرف وسطی افریقہ میں تھی

اس رپورٹ میں جن مسائل کا ذکر کیا گیا ہے اور جن تک اے پی اور بلومبرگ کی رسائی ہو سکی ہے ان میں:

  • ڈبلیو ایچ او کے ماہرین جو فیلڈ میں تھے وہ جنیوا میں ادارے کے ہیڈکوارٹر کو اپنی رپورٹ بروقت بھیجنے میں ناکام رہے۔
  • دفتر شاہی کی وجہ سے گنی میں اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں کے لیے پانچ لاکھ ڈالر پہنچانے میں ناکام رہی۔
  • ڈاکٹروں کو ویزا کے سبب وہاں تک رسائی نہیں مل سکی شامل ہیں۔

ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے ڈبلیو ایچ او کی گلوبل رسپانس ہیڈ ایزابیل نوٹال نے بی بی سی کو بتایا: ’تفتیش کا وقت آئے گا۔ فی الوقت ہمیں ان مسائل کے تدارک پر توجہ مرکوز کرنی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جنیوا میں موجود بی بی سی کے نمائندے کہنا ہے کہ اس طرح کے الزامات نئے نہیں ہیں لیکن یہ دستاویزات ادارے میں معلومات کے تبادلے کی کمی کو اجاگر کرتے ہیں۔ وہ بھی ان حالات میں جب ایبولا کی وبا گاؤں سے نکل کر اب شہروں میں پھیل رہی ہے

بروقت اقدام کرنے میں ناکامی پر انھوں نے کہا اس وقت تک یہ بیماری مغربی افریقہ میں عام نہیں تھی اور صرف وسطی افریقہ میں تھی۔

انھوں نے کہا: ’جب ہم نے تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ جون کے بعد سے اس نے دوسرا رخ اختیار کر لیا۔

’ہم نے کہا کہ یہ وبا مختلف ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ ہم نے اسے پرزور طریقے سے نہیں کہا کہ دنیا اسے سمجھ سکتی جیسا کہ اب ہم بین الاقوامی برادری کو اس کے خلاف متحد کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔‘

اس سے قبل ڈبلیو ایچ او کی ڈائریکٹر جنرل مارگریٹ چان نے بلومبرگ کو بتایا تھا کہ انھیں اس بیماری کے شروع ہونے اور پھیلاؤ کے بارے پوری طرح سے مطلع نہیں کیا گیا اور یہ کہ اس کے لیے کیے جانے والے اقدامات اس کے برابر اور مطابق نہیں تھے۔

Image caption ایبولا سے متاثرہ افراد کی تعداد آنے والے مہینوں میں ہرہفتے دس ہزار کے حساب سے ہو سکتی ہے

جنیوا میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس طرح کے الزامات نئے نہیں ہیں لیکن یہ دستاویزات ادارے میں معلومات کے تبادلے کی کمی کو اجاگر کرتے ہیں۔ وہ بھی ان حالات میں جب ایبولا کی وبا گاؤں سے نکل کر اب شہروں میں پھیل رہی ہے۔

مغربی افریقہ میں اس وائرس کے آنے کے بعد کھانے پینے کی اشیا کے داموں میں اضافہ ہوا ہے۔

اقوام متحدہ نے ایبولا سے سب سے متاثر ممالک میں سے ایک سيرا لون میں غذائی اشیا کی تقسیم شروع کی ہے۔

ڈبلیو ايچ او کے مطابق ایبولا سے اب تک 4,546 افراد ہلاک جبکہ نو ہزار سے زیادہ اس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں