طالبان کے لیے کابل واقعی دور؟

تصویر کے کاپی رائٹ NA

تقریباً ایک دہائی سے زیادہ عرصے کی جنگ کے بعد اگرچہ افغانستان سے بین الاقوامی فوجیں واپس جانے کی تیاریاں کر رہی ہیں، تاہم ملک کے کئی علاقوں میں اب بھی طالبان کی گرفت خاصی مضبوط ہے۔

بی بی سی کے مشہور پروگرام ’پینوراما‘ کی ایک ٹیم کوطالبان کے ایک ایسے ہی گڑھ تک رسائی حاصل ہوئی جو کابل سے محض ایک گھنٹے کے سفر پر ہے۔

جب ہماری گاڑی وادیِ تنگی میں ایک کچی سڑک پر مڑی تو ہم کہنے کو تو کابل سے صرف 60 میل دور تھے لیکن اصل میں ہم ایک ایسے علاقے میں پہنچ چکے تھے جہاں طالبان کا راج ہے۔ تنگی کی وادی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کابل کو جانے والا سب سے بڑا راستہ ہے اور یہی وہ راستہ ہے جہاں سے کابل پر حملے کیے جاتے رہے ہیں۔

صوبہ وردک ہی وہ علاقہ ہے جہاں حالیہ برسوں میں نیٹو اور طالبان کے درمیان خونریز ترین جنگیں ہو چکی ہیں۔

دس برس تک افغانستان میں صحافت کرنے اور ایک مرتبہ طالبان جنگجوؤں کے ہاتھوں اغوا ہونے کے بعد، مجھے کوئی شک نہیں تھا کہ ہم افغانستان کے ایک خطرناک علاقے میں داخل ہو چکے ہیں۔ مغربی دنیا سے تعلق رکھنے والے صحافی ہونے کے ناطے ہمیں دیگر لوگوں سے زیادہ خطرے کا سامنا تھا۔

یہاں پہنچنے سے پہلے میں نے اس علاقے میں طالبان کے خود ساختہ سربراہ سید رحمان سے ملاقات کا بندوبست کر لیا تھا۔ عرف عام میں سید رحمان کو ’گورنر بدری‘ کہا جاتا ہے۔ 27 سالہ گورنر بدری لڑکپن سے ان امریکی فوجوں کے خلاف لڑ رہے ہیں جنھوں نے سنہ2001 میں طالبان کو اقتدار سے باہر اٹھا پھینکا تھا۔

سید رحمان کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک امریکیوں کے خلاف لڑتے رہیں گے جب تک وہ افغانستان سے نکل نہیں جاتے۔ اس کے علاوہ ان کا ارادہ ہے کہ وہ اسلامی قوانین کو پورے افغانستان میں نافذ کریں گے۔

گورنر بدری کے بقول طالبان کو اپنا نظریہ لوگوں پر زبردستی لاگو کرنے کی ضرورت نہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ بے شمار افغانی نہ تو طالبان کے نظریے سے اتفاق کرتے ہیں نہ ہی ان کے متشدد طریقہ کار سے۔

گورنر بدری کا اصرار تھا کہ ’ افغانستان کے لوگ مسلمان ہیں اور وہ ایک اسلامی حکومت چاہتے ہیں۔ مغربی طاقتیں نہیں چاہتیں کہ یہاں اسلامی حکومت ہو۔ ہم جن لوگوں کو ڈراتے اور مارتے ہیں وہ دراصل اس سرزمین کے دشمن ہیں۔‘

ایک صحافی کو ملاقات کی اجازت دینا گورنر بدری کے لیے اپنی تشہیر ایک اچھا موقع تھا۔ شاید اسی لیے انھوں نے ہمیں وہ علاقہ بڑے شوق سے دکھایا جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ وہاں ان کا مکمل کنٹرول ہے۔

وہ مجھے ایک پہاڑی کی چوٹی پر لے گئے اور لڑاکا اپاچی ہیلی کاپٹروں کا وہ اڈہ دکھایا جو امریکی تین سال پہلے چھوڑ گئے تھے۔

گورنر بدری نے بتایا کہ ’ امریکی جو سازو سامان چھوڑ گئے تھے وہ ہم نے لے لیا۔ حتیٰ کہ وہ خاردار تاریں جو ہمیں یہاں سے ملیں، وہ ہم نے مدرسوں اور مساجد کے حوالے کر دیں۔‘

پہاڑی کی چوٹی سے ہم وہ مقام بھی دیکھ سکتے تھے جہاں پر امریکیوں پر طالبان نے سب سے بڑا کامیاب حملہ کیا تھا اور ان کا ایک چنوک ہیلی کاپٹر مار گرایا تھا۔ اس حملے میں امریکی بحریہ کے 17 کمانڈوز سمیت 38 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ NA
Image caption سید رحمان (بائیں جانب کھڑے) المعروف گورنر بدری تنگی میں طالبان کے خود ساختہ سربراہ ہیں

اس پہاڑی سے کچھ دور ہی افغان فوج کا ایک بچا کھچا پہاڑی اڈہ بھی ہے۔

فوج کے ترجمان جنرل محمد ظاہر اعظمی کا کہنا تھا کہ صوبہ وردک مکمل طور پر فوج کے کنٹرول میں ہے۔

لیکن میں نے دیکھا کہ تنگی کی وادی میں طالبان دن کی روشنی میں بھی آزادانہ گھوم پھر رہے تھے۔ گورنر بدری نے مجھے بتایا کہ افغان فوجی شاز و نادر ہی باہر نکلتے ہیں، اور جب نکلتے بھی ہیں تو بکتر بند گاڑیوں میں ہوتے ہیں۔

تنگی میں طالبان کے مضبوط کنٹرول کی بڑی مثال وہاں کے سکول ہیں۔ مثلاً امام ابو حنیفہ سکول 1,400 بچوں پر مشتمل ایک بڑا سکول تھا جہاں 50 سے زیادہ اساتذہ تھے۔ سکول میں ریاضی اور سائنس پڑھائی جاتی تھی لیکن طالبان کے زیر اثر اس سکول کے نصاب میں مذہبی تعلیم کو مرکزی مضمون بنا دیا گیا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس سکول کا نصاب تو طالبان کے ہاتھ میں ہے لیکن دراصل یہ ایک سرکاری سکول ہے جس کے تمام اخراجات کابل کی حکومت ادا کر رہی ہے۔

اتنے بڑے سکول میں آپ کو ایک لڑکی بھی دکھائی نہیں دیتی، بلکہ اس پورے علاقے میں آپ کو کوئی لڑکی دکھائی نہیں دے گی۔ طالبان سے پوچھو تو ان کا سرکاری بیان یہی ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم پر جو بدنام زمانہ پابندی تھی، انھوں نے اب اس میں نرمی کر دی ہے۔ لیکن سکول کے ہیڈ ماسٹر محمد سالم نے ہمیں صاف الفاظ میں بتایا کہ اس پورے علاقے میں بچیوں کا کوئی سکول نہیں ہے اور نہ ہی کسی ایسے سکول کا کوئی منصوبہ ہے۔

جب طالبان اقتدار میں تھے تو شرعی عدالتیں ہر کسی کو سخت سزائیں دی رہی تھیں۔ یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا ہے اور طالبان کے زیر تسلط علاقوں میں اب بھی مجرموں کے ہاتھ کاٹے جا رہے ہیں اور زنا کے مرتکب افراد کو سنگسار کیے جانے کے واقعات ہو رہے ہیں۔

ہم نے بھی تنگی کے ایک باغ میں زمین کے تنازع پر لگی ہوئی عدالت دیکھی جس کے جج گورنر بدری خود تھے۔

اس موقع پر گورنر بدری کا کہنا تھا: ’ اللہ نے چاہا تو ہم اس مقدمے کا فیصلہ کابل کی سپریم کورٹ سے کم وقت میں کر دیں گے۔ جب ہم فیصلہ کرتے ہیں تو کسی کو بڑی عدالت میں اس کے خلاف اپیل کرنے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔‘

گورنر بدری کے بقول طالبان امریکی فوجوں سے جنگ کے دوران ’جو قربانیاں دیتے ہیں، شہید ہوتے ہیں اور اپنا خون دیتے ہیں‘ اس کا مقصد شریعت کا نفاذ اور اسلامی حکومت کا قیام ہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ NA
Image caption ’میں نے طالبان کے ساتھ جو چار دن گزارے اس دوران مجھے کئی لوگوں سے ملنے کی اجازت دی گئی‘

قریب ہی ایک بچہ کلاشنکوف سے کھیل رہا تھا۔ جب میں نے گورنر بدری سے پوچھا کہ یہ بچہ اے کے 47 کا کیا کرے گا تو ان کا جواب تھا ’لوگوں کو مارے گا۔‘ بچے کے والد نے بڑے فخریہ انداز میں بتایا کہ اس کا بیٹا ’سچا مجاہد بنے گا۔‘

گورنر بدری کا شمار ان چند لوگوں میں ہوتا ہے جو امریکیوں کو انتہائی مطلوب ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی انہیں مارنے اور گرفتار کرنے کے لیے کئی کوششیں کر چکے ہیں اور انھیں نشانہ بنانے کے لیے کئی ڈرون حملے بھی ہو چکے ہیں۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ آخری حملے میں وہ محض آدھے میٹر کے فاصلے سے بچے، تاہم اس دھماکے میں انھیں خاصے زخم آئے اور وہ ایک کان سے بہرے ہو گئے۔

’میں جب بھی اپنا موبائل آن کرتا ہوں، ڈرون آ جاتا ہے اس لیے میں کوشش کرتا ہوں کہ موبائل فون نہ ہی استعمال کروں۔‘

’میں نے طالبان کے ساتھ جو چار دن گزارے اس دوران مجھے کئی لوگوں سے ملنے کی اجازت دی گئی۔ ان میں سے کچھ کو تو خاص طور پر منتخب کیا گیا تھا، تاہم میں جس سے بھی ملا میں مسلسل طالبان کی نظروں میں تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’اللہ نے چاہا تو ہم اس مقدمے کا فیصلہ کابل کی سپریم کورٹ سے کم وقت میں کر دیں گے‘

کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ خوش ہیں کہ ہر وقت کی جنگ کی کیفیت سے جان چھوٹ گئی ہے، لیکن کچھ دیگر لوگ طالبان پر کسی قسم کی تنقید کرنے سے خوفزدہ بھی تھے۔

ایک شخص جو اپنی شناخت پوشیدہ رکھنا چاہتا تھا، اس نے مجھے بتایا کہ ’ ہم طالبان اور غیر ملکی فوجوں، دونوں سے خوفزدہ ہیں۔ یہاں کوئی بھی آپ کو سچی بات نہیں بتائے گا۔‘

میرے رخصت ہونے سے پہلے طالبان نے بڑے فخر کے ساتھ مجھے ایک باغ میں اپنے جنگجوؤں کی ایک پریڈ بھی دکھائی۔ پریڈ کے دوران بھی راکٹ لانچروں اور بندوقوں سے مسلح جنگجوؤں کو ہدایت تھی کہ وہ اپنے چہرے ڈھانپے رکھیں اور ایک دوسرے کے قریب قریب نہ ہوں تا کہ وہ ڈرونز کی نظروں سے دور رہیں۔

تنگی وادی میں طالبان کے عسکری رہنما ’ کمانڈر انتقام‘ نے بڑے فخریہ انداز میں مجھے یہ بھی بتایا کہ اپنے اہداف منتخب کرنے کے لیے وہ ’گوگل ارتھ‘ سے بھی مدد لیتے ہیں۔

بیش قیمت دھوپ کا چشمہ پہنے اور بہترین انگریزی میں بات کرتے ہوئے کمانڈر انتقام کا کہنا تھا کہ تنگی کی ساری وادی طالبان کے دائرہ اختیار میں ہے اور ان کا اگلا ہدف کابل کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ NA
Image caption پورے علاقے میں بچیوں کا کوئی سکول نہیں ہے اور نہ ہی کسی ایسے سکول کا کوئی منصوبہ ہے۔

کمانڈر انتقام کا دعویٰ اپنی جگہ، لیکن ہم جانتے ہیں کہ کابل شہر تو اب ایک قلعہ بن چکا ہے۔ افغان پولیس کی مجموعی تعداد 150,000 ہے جبکہ فوج کی تعداد تقریباً دو لاکھ ہونے والی ہے۔ان پولیس اہلکاروں اور فوجیوں کی ایک بڑی تعداد صرف کابل کی حفاظت پر تعینات ہے۔

فوج کے ترجمان جنرل اعظمی کا اصرار ہے کہ ’طالبان کی عسکری حمکت عملی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔‘

جہاں تک میری رائے ہے، طالبان وادی تنگی اور اس جیسے دوسرے اہم علاقوں کو اپنے قابو میں رکھ سکتے ہیں، لیکن وہ کابل پر ایک بڑا حملہ کرنے سے ابھی کوسوں دور ہیں۔ بڑے شہروں پر قبضہ کیے بغیر، طالبان افغانستان پر کبھی بھی قبضہ نہیں کر سکتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ NA
Image caption طالبان نے بڑے فخر کے ساتھ ہمیں ایک باغ میں اپنے جنگجوؤں کی ایک پریڈ بھی دکھائی

مزاحمت کاروں کے خلاف فوری کارروائی کے لیے بنائے جانے والے فوجی دستوں سے منسلک کرنل میرواعظ تراکئی کہتے ہیں کہ ’طالبان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ بارودی سرنگوں، بم دھماکوں اور خود کش حملوں پر انحصار کرتے ہیں۔ان کے پاس ہم پر باقاعدہ حملہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔‘

افغانستان کی نئی حکومت نے گزشتہ ماہ امریکہ اور برطانیہ کے ساتہ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت فوجی انخلا کے بعد خصوصی فوجی دستے اور فوجی تربیت کے ماہرین افغانستان میں موجود رہیں گے۔

اس کے باوجود یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جوں جوں مغرب اپنا ہاتھ کھینچ رہا ہے، اس بات کے خدشات بڑھ رہے ہیں کہ ان افغانیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے جو طالبان کے زیر تسلط زندگی گزارنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔