سعودی عرب میں ایک اور پاکستانی کا سرقلم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سعودی عرب میں دی جانے والی سخت سزاؤں پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اعتراضات کرتی رہتی ہیں

سعودی عرب میں منگل کو منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں ایک پاکستانی شہری کا سر قلم کر دیا گیا ہے۔

سعودی عرب میں رواں برس 58 افراد کے سرقلم کیے جا چکے ہیں۔

منگل کے روز موت کی سزا پانے والے شخص کا نام باز محمد گل محمد تھا اور اس پر الزام تھا کہ اس نے سعودی عرب میں منشیات سمگل کرنے کی کوشش کی تھی۔ باز محمد گل محمد کو سعودی عرب کے مشرقی شہر خوبار میں سزا دی گئی۔

اقوام متحدہ کے ایک ماہر نے ستمبر میں سعودی عرب میں پھانسی کی سزا پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔

ماورائے عدالت ہلاکتوں کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر کرسٹوف ہینز نے سعودی عرب میں مقدموں کی سماعت کو انتہائی غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ بعض اوقات تو ملزموں کو اپنے دفاع کے لیے وکیل کی خدمات حاصل کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی۔

انھوں نے کہا تھا کہ ملزمان سے تشدد کے ذریعے اعتراف جرم کرایا جاتا ہے۔

سعودی عرب کے شرعی نظام میں ریپ، قتل، مسلح ڈکیتی، مرتد ہونے اور منشیات کی سمگلنگ پر موت کی سزا دی جاتی ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں گذشتہ سال 78 افراد کے سر قلم کیے گئے تھے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2012 میں بھی سعودی عرب کی اسلامی مملکت میں 78 افراد کے سر قلم کر کے موت کی سزا دی گئی تھی۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم نے 2000 میں سر قلم کیے جانے والے افراد کی تعداد 79 بتائی تھی۔

اسی بارے میں