ریل گاڑی اور انسانی دوڑ کا نیا چلن ’ریس دا ٹیوب‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ٹرین ہر دور میں دنیا بھر میں اپنی رفتار کی وجہ سے باعث کشش رہی ہے

ریل گاڑی ہمیشہ سے ساری دنیا میں باعث کشش رہی ہے اور اس کی رفتار کے متعلق لوگوں کی دیوانگی بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔

حالیہ اطلاعات کے مطابق ٹرین اور انسانی رفتار کی کشاکش کو یو ٹیوب پر ڈالنے کا چلن دنیا بھر میں پھیل چکا ہے۔

چند ماہ قبل کچھ لوگوں نے لندن میں ٹیوب یا زیر زمین ٹرین سے مقابلے کے ساتھ اس چلن کی ابتدا کی تھی۔

واضح رہے کہ ٹرین کی ایجاد کے ابتدائی زمانے سے ہی لوگوں میں اس کے متعلق تجسس اور اس سے مقابلے کا رجحان دیکھا گیا ہے۔

متحد ہندوستان میں جب ریل گاڑی چلائی گئی تھی تو نوابین اور مہم جو اپنے اپنے گھوڑوں سے اسے پیچھے چھوڑنے کا نیا ریکارڈ قائم کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔

بالی وڈ کی فلموں میں بھی اس رجحان کو دکھایا گیا ہے۔ کبھی گھوڑا دوڑا کر یا پھر کبھی دوسری سواری سے اس کا پیچھا کر کے اسے پکڑا جاتا ہے۔ اس کا الٹ عامر خان کی فلم ’غلام‘ میں نظر آیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption اب ایک نیا چلن اس وقت سامنے آیا ہے جب ٹرین ہوا سے باتیں کرنے لگی ہیں

پہاڑوں پر چلنےوالی ٹوائے ٹرین یا چھوٹی پٹریوں کی بھاپ سے چلنے والی ٹرین اگر ایک موڑ پر چھوٹ گئی تو اسے پہاڑی پر چڑھ کر دوسرے موڑ پر جا لیا۔

اب ایک تازہ رجحان اس وقت سامنے آیا ہے جب لندن میں ایک سٹیشن پر ٹرین سے اتر کر ایک شخص نے دوڑنا شروع کیا اور اگلے سٹیشن پر اسی ٹرین پر سوار ہوا۔ اسی کوشش پر مبنی ایک ویڈیو کو جب 50 لاکھ لوگوں نے یو ٹیوب پر دیکھا تو اس کام کو ریس دا ٹیوب (racethetube#) نام دیا گیا۔

ریس دا ٹیوب میں کوئی شخص ٹرین کے رکتے ہی اس سے نکل کر بھاگتا ہے اور سڑک کے راستے دوڑ کر اگلے سٹیشن پر اسی ٹرین کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے۔

یو ٹیوب پر اس قسم کے ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد تو میلان، ہانگ کانگ، تائیوان، كوپن ہیگن، پرتھ، نیپلز اور بارسلونا سمیت 20 شہروں میں کئی لوگوں نے اسی طرح ایک سٹیشن پر ٹرین چھوڑ کر دوسرے سٹیشن پر اسی ٹرین کو پکڑنے کارنامہ انجام دیا۔

ویسے ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا ہے۔ پیرس میں سنہ 2012 میں پہلی بار انسان اور زیر زمین ٹرین کا یہ مقابلہ ہوا تھا۔

اسی بارے میں