نوجوان ریپ کے الزام میں سنگسار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صومالیہ کی شدت پسند تنظیم الشباب نے اپنے زیرِ قبضہ علاقوں میں سخت اسلامی قوانین نافذ کر رکھے ہیں

ایک اسلام نواز ویب سائٹ کے مطابق صومالیہ میں شدت پسند تنظیم الشباب کی عدالت نے ایک کم عمر نوجوان کو ایک خاتون کو ریپ کرنے کے الزام میں سنگسار کر کے ہلاک کر دیا ہے۔

عدالت میں مقدمے کی آڈیو ریکارڈنگ سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق جج نے 18 سالہ حسن علی کو حکم دیا کہ وہ متاثرہ خاتون کو ازالے کے طور پر گائے کا ایک بچھڑا دے اور اس کے بعد لڑکے کو ہلاک کر دیا گیا۔

علی نے 28 سالہ خاتون فادومو حسن محمد کو ریپ کرنے کے الزام کی صحت سے انکار کیا تھا۔

صومالیہ کی شدت پسند تنظیم الشباب نے اپنے زیرِ قبضہ علاقوں میں سخت اسلامی قوانین نافذ کر رکھے ہیں۔

گذشتہ مہینے ملک کے ساحلی قصبے باراوی میں ایک اسلامی عدالت نے ایک خاتون کو بیک وقت چار شوہر رکھنے کے جرم میں سنگسار کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

الشباب کے حامی ریڈیو سٹیشن نے اپنی ویب سائٹ پر کہا کہ علی کو صومالیہ کے شبیلا کے علاقے میں دہریورا گاؤں میں فدیومو حسن محمد کو بندوق کی نوک پر ریپ کرنے کا مرتکب پایا گیا۔

تاہم علی کا کہنا ہے کہ انھوں نے اور فدیومو حسن محمد نے اپنی مرضی سے جنسی تعلق قائم کیا۔

الشباب حال ہی میں باراوی سمیت کئی قصبوں پر کنٹرول کھو چکی ہے لیکن دیہاتی علاقوں میں اب بھی بہت سے علاقے ان کے قبضے میں ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ القاعدہ سے منسلق الشباب گروپ کے پاس کم از کم پانچ ہزار جنگجو ہیں اور وہ اقوامِ متحدہ کی مدد سے چلنے والی حکومت کا خاتمہ چاہتی ہے۔

اسی بارے میں