چین کی سربراہی میں ایشیائی بینک کا قیام

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چین ابتدائی طور پر بینک کو پچاس بلین ڈالرز دے گا جب کہ پچاس بلین ڈالرز پرائیوٹ کمپنیوں سے حاصل کیے جائیں گے

اکیس ایشیائی ممالک نے چین کی سربراہی میں سماجی اور معاشی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے لیے ایک نئے ایشیائی ترقیاتی بینک کے قیام کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

بیجنگ عالمی سطح پر اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے اس نئے بینک کے قیام کو ضروری سمجھتا ہے لیکن امریکہ ان دلائل کے ساتھ اس کی مخالفت کر رہا ہے کہ یہ ایک غیر ضروری قدم ہےجو کہ ورلڈ بینک جیسے مضبوط ادارے کو کمزور کر سکتا ہے۔

کون سے ایشیائی ممالک اس بینک کے ممبران ہوں گے؟

اس بینک میں سنگا پور جیسے ترقی یافتہ ملک سے لے کر بھارت اور چین جیسے مضبوط معاشی ممالک اور ویت نام، فلپائن، منگولیا، کمبوڈیا، عمان، ازبکستان، تھائی لینڈ، سری لنکا، قطر، پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش، برونائی، قازقستان، کویت، ملائیشیا اور میانمار شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بیجنگ عالمی سطح پر اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے اس نئے بینک کے قیام کو ضروری سمجھتا ہے

لیکن امریکہ اور اس کے قریبی اتحادی ممالک جاپان، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا ابھی تک اس منصوبے کا حصہ نہیں بنے ہیں۔ سنگا پور بھی امریکہ کے زیادہ قریب ہے لیکن ان کے مطابق ابھی سے اس منصوبے کا حصہ بننے سے اس بارے میں ہونے والے فیصلوں میں ان کی رائے شامل ہو گی۔

امریکہ کیا رائے رکھتا ہے؟

واشنگٹن یہ تحفظات رکھتا ہے کہ اس بینک کے آنے سے حقوق انسانی، مزدوروں کے تحفظ اور شفافیت سے جڑی قرضوں کی لازمی شرائط کی کم پابندی کی جائے گی۔

واشنگٹن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نئے بینک کے قیام کے بعد مضبوط عالمی ادارے، ورلڈ بینک، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور ایشئین ڈیویلیپمنٹ بینک ماتثر ہوں گے اور یہ ایسے ادارے ہیں ہیں جنہوں نے دنیا بھر میں بہتر طرز حکمرانی اور صاف ستھرے ماحول کے لیے کافی محنت کی ہے۔

قدرتی طور پر امریکہ نہیں چاہے گا کہ عالمی معیشت کے ایسے طاقتور اداروں سے دنیا کی توجہ ہٹ جائے جن پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا اثرو رسوخ ہے۔

دنیا کی پہلی اور دوسری مضبوط معیشتیں امریکہ اور چین، ایک دوسرے پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایشیا میں اگر امریکہ اپنی فوجی طاقت کی وجہ سے اثرورسوخ رکھتا ہے تو چین اپنی مضبوط معیشت کے باعث انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے۔

یہ بینک کتنا قرضہ دے سکے گا؟

چین ابتدائی طور پر بینک کو پچاس بلین ڈالرز دے گا جب کہ پچاس بلین ڈالرز پرائیوٹ کمپنیوں سے حاصل کیے جائیں گے۔

یہ رقم ابھی بھی ورلڈ بینک کے 220 بلین اور آئی ایم ایف کے 175 بلین ڈالرز سے کم ہے۔

چین کو اس سے کیا فائدہ ہو گا؟

چین اس نئے بینک کے علاوہ ’برکس‘ ممالک روس، انڈیا، برازیل اور جنوبی کوریا کے مشترکہ نئے ترقیاتی بینک کو بھی تعاون فراہم کر رہا ہے۔

چین سمجھتا ہے کہ اس نئے بینک کے قیام کے بعد عالمی سطح پر اس کے اثرورسوخ اور وقار میں اضافہ ہو گا۔

اس کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر امریکہ عالمی معاملات میں اسے نظر انداز کرتا ہے تو چین ازخود اپنے اثرورسوخ اور اہمیت میں اضافہ کرے گا۔

اسی بارے میں