دو سال سے ایک بھی کتاب نہیں پڑھی: فرانسیسی وزیر

فرانس کی وزیرِ ثقافت تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیرِ ثقافت فلور پیلراں فرانس کے ادب میں نوبیل انعام جیتنے والے مصنف کے متعلق ایک پروگرام میں شرکت کر رہی تھیں

فرانس کی وزیرِ ثقافت نے یہ کہہ کر ہلچل مچا دی ہے کہ انھوں نے دو سال میں ایک کتاب تک نہیں پڑھی ہے۔

فلور پیلراں نے، جو اگست میں اس عہدے پر فائز ہوئی تھیں، یہ بات ٹی وی پر فرانس کے نوبیل انعام یافتہ مصنف پتریک مودیانو کے متعلق ایک پروگرام میں ایک انٹرویو کے دوران کہی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ انھیں مصنف کی کون سے کتابیں پسند ہیں تو انھوں نے کہا کہ وہ اتنی مصروف تھیں کہ ان کے پاس کتابیں پڑھنے کا وقت نہیں تھا۔

ان کے اس بیان پر سوشل میڈیا میں بحث چھڑ گئی ہے۔ کئی لوگ تو ان ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں لیکن کئی ایک نے اس پر نفرت کا اظہار بھی کیا ہے۔

اتوار کو ٹی وی پر ایک انٹرویو کے دوران پیلراں نے کہا کہ اس سال جب مودیانو کو ادب کے نوبیل انعام کا حقدار ٹھہرایا گیا تو انھوں نے مصنف کے ساتھ ایک ’زبردست لنچ‘ کیا تھا۔

لیکن انھوں نے تسلیم کیا کہ وہ یہ نہیں کہہ سکتیں کہ مودیانو کی کون سی کتاب انھیں پسند ہے کیونکہ دو سال پہلے وزارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کے پاس ان کی یا کسی اور مصنف کی کتاب پڑھنے کا وقت ہی نہیں تھا۔

’میں یہ بغیر کسی مسئلے کے تسلیم کرتی ہوں کہ گذشتہ دو برسوں میں مجھے پڑھنے کا وقت نہیں ملا۔ میں بہت زیادہ نوٹس پڑھتی ہوں اور قانون سازی کی دستاویزات پڑھتی ہوں۔ میں کافی زیادہ خبریں پڑھتی ہوں، لیکن میں بہت کم (کتابیں) پڑھتی ہوں۔

سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے ان کے اعتراف کا دفاع کیا۔ ٹوئٹر پر ایک شخص نے لکھا: ’سب سے بری بات یہ ہے کہ اگر فلور پیلراں اپنی شامیں پڑھنے میں صرف کر دیتیں تو کئی ایک نے ان پر یہ الزام لگانا تھا کہ وہ زیادہ کام نہیں کر رہیں۔‘

دوسروں نے ان کے اعتراف کو شرمندگی سے تعبیر دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی ایمانداری نے ان کے وزارت کے عہدے کے رتبے کو کم کر دیا ہے۔

اسی بارے میں