خواتین اور مردوں میں تفاوت کم ہوا ہے

گزشتہ ایک برس کے دوران مردوں اور خواتین کے درمیان تفاوت کم ہوئی ہے، جس کی بڑی وجہ خواتین کی سیاست اور ملازمت کے مختلف شعبوں میں بڑھتی ہوئی شمولیت ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ رپورٹ ترتیب دیتے وقت 142 ممالک میں معیشت، صحت، تعلیم اور سیاست میں شمولیت جیسے عوامل کا جائزہ لیا گیا ہے۔

ڈبلیو ای ایف کا کہنا ہے کہ مذکورہ سالانہ رپورٹ کے اس سلسلے کا آغاز نو برس پہلے کیا گیا تھا اور اس عرصے کے دوران 105 ممالک میں خواتین اور مردوں میں تفاوت میں کمی آئی جبکہ پانچ ملکوں میں مردوں اور خواتین کے درمیان فرق میں اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ پانچ برسوں کی طرح اس سال بھی آئیس لینڈ صنفی تفاوت کو کم کرنے میں اول رہا ہے جبکہ یمن کا نمبر فہرست میں آخری ہے۔

شمالی یورپ (سکینڈے نیویا) کے ممالک فہرست میں سب سے اوپر رہے۔ آئس لینڈ کے بعد فن لینڈ، ناروے اور سویڈن بالترتیب دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر پر رہے۔ یہ ممالک اپنے ہاں مردوں اور خواتین کے درمیان کم سے کم تفریق کا سہرا اپنی ترقی پسندانہ سیاسی جبلت کے سر باندھتے ہیں۔

اس برس برطانیہ گزشتہ سال کے مقابلے میں آٹھ درجے نیچے آ گیا اور فہرست میں اس کا نمر 26واں رہا، جبکہ روانڈا، جو پہلے 20 ممالک میں تھا، اس مرتبہ ساتویں نمبر پر آگیا جبکہ براعظم افریقہ میں اس کی معیشت پہلے نمبر پر رہی۔

ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق برطانیہ کی درجہ بندی میں کمی کے پیچھے جو عنصر کار فرما ہے وہ خواتین کی آمدن ہے۔ بحرِ اوقیانوس کی دوسری جانب امریکہ تین درجے اوپر آنے کے بعد اس مرتبہ 20ویں درجے پر رہا جس کی وجہ امریکہ میں خواتین اور مردوں کی آمدن میں فرق کی کمی اور پارلیمانی اور وزارتی سطح پر خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت ہے۔

ڈبلیو ای ایف کی رپورٹ کی مصنفہ سعدیہ زاہدی کا کہنا ہے کہ روانڈا کی کامیابی کی وجہ یہ نہیں کہ وہاں صحت یا تعلیم کی سہولیات میں بہتری آئی ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں کام کرنے والی خواتین کی تعداد مردوں کے برابر ہے اور ملک کے سرکاری دفاتر میں آپ کو میز کی دوسری جانب مردوں کی نسبت خواتین زیادہ دکھائی دیتی ہیں۔

رپورٹ میں جو دیگر حیران کن نتائج سامنے آئے ہیں ان میں خواتین کے لیے بہترین ملک ہونے کے حوالے سے نکاراگووا کا 10ویں درجے سے چھٹے اور فلپائین کا نویں درجے پر آنا شامل ہیں۔

ڈبلیو ای ایف کی رپورٹ میں ممالک کی درجہ بندی جن عوامل کے بنیاد پر کی جاتی ہیں ان میں اہم ترین عوامل درج ذیل ہیں:

  • کیا خواتین کام کر سکتی ہیں اور کیا انھیں وہی تنخواہ دی جاتی ہے جو اس عہدے پر کسی کو بھی دی جاتی ہے؟
  • کیا خواتین کو تعلیم تک رسائی حاصل ہے؟
  • کیا انھیں اپنی سیاسی طاقت استعمال کرنے دی جاتی ہے؟
  • صحت کا معاملہ کیسا ہے؟ اس میں محض خواتین کی اوسط عمر نہیں شامل بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ معاشرے میں خواتین اور مردوں کا تناسب کیا ہے؟

ان عوامل پر کی جانے والی درجہ بندی پر معاشرتی طاقتوں کے اثرات بھی دیکھے جاتے ہیں۔ مثلاً اس برس بھارت 13 درجے نیچے آیا اور اس کا نمبر 114واں رہا۔

سعدیہ زاہدی کا کہنا تھا کہ بھارت میں گھر سے باہرکے معاملات میں خواتین کی شمولیت پر معاشرتی مسائل اثر انداز ہوتے ہیں، جیسے سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا بھارت میں خواتین کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ محفوظ ہے یا نہیں۔

سعدیہ زاہدی نے مزید کہا کہ جہاں تک عالمی سطح پر مرد و زن میں تفاوت کے کم ہونے کا تعلق ہے تو اس کی وجہ خواتین کی سیاست اور ملازمت کے میدانوں میں زیادہ شمولیت ہے۔

رپورٹ کی وضاحت کرتے ہوئے مصنفہ کا کہنا تھا کہ ’ گزشتہ دہائی کے دوران جہاں ملازمتوں میں خواتین اور مردوں دونوں کی شمولیت میں اضافہ ہوا ہے، وہاں مردوں سے زیادہ خواتین نے مزدروی کرنا شروع کر دی ہے۔

’اور جہاں تک سیاست کا تعلق ہے تو عالمی سطح پر دس برس پہلے کے مقابلے میں آج 26 فیصد زیادہ خواتین پارلیمان میں پہنچ چکی ہیں اور خواتین وزرا کی تعداد میں پچاس فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔‘

سعدیہ زاہدی کے مطابق عموماً خواتین کے شمولیت میں اضافہ ان ممالک میں جلدی ہوتا ہے جہاں خواتین کے لیے مخصوص کوٹہ مقرر کیا جاتا ہے یا خاص اہداف مقرر کیے جاتے ہیں، مثلاً انتخابات لڑنے کے لیے امیدوار نامزد کرتے وقت خواتین کے لیے کوٹہ مقرر کرنا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service