شام: ادلب پر باغیوں کا حملہ، ہلاکتوں کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 2012 میں باغیوں کے مختصر وقفے کے کنٹرول کے بعد سے ملک کے شمال مغربی شہر ادلب پر حکومت کی عمل داری قائم ہے

شام میں القاعدہ کے جنگجوؤں اور دیگر باغی گروہوں نے حکومت کے زیرِ قبضہ شہر ادلب پر حملہ کر دیا اور مختصر وقت کے لیے متعدد سرکاری عمارتوں پر قابض رہے۔

شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت سے برسر پیکار النصرۃ فرنٹ کا کہنا ہے کہ اس نے حکومت کے درجنوں فوجیوں کو ہلاک کر کے انھیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا ہے۔

سنہ 2012 میں باغیوں کے مختصر کنٹرول کے بعد سے ملک کے شمال مغربی شہر ادلب پر حکومت کا کنٹرول قائم ہے۔

شام میں جاری خانہ جنگی چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے اور اس کے نتیجے میں اب تک دو لاکھ سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔

دوسری جانب بظاہر دولت اسلامیہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک ویڈیو میں انھوں نے شام کے شہر کوبانی سے اغوا کیے جانے والے برطانوی صحافی جان کینٹلی کو دکھانے کی کوشش کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تین برسوں سے جاری خانہ جنگی میں دو لاکھ سے زیادہ شامی باشندے مارے جا چکے ہیں

ویڈیو میں کینٹلی گذشتہ دو ہفتوں کے واقعات کا حوالہ دیتے ہیں جن میں کرد جنگجوؤں کے لیے امریکی طیاروں سے اسلحے گرائے جانے کی بات بھی شامل ہے۔

ترکی کی سرحد کے قریب کوبانی میں شدید جنگ جاری ہے اور امریکہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملے کر رہا ہے۔

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کے متعلق شام کی آبزرویٹری (ایس او ایچ آر) کا کہنا ہے کہ ادلب پر پیر کی صبح حملہ کیا گیا۔

باغیوں نے چوکیوں پر حملہ کر دیا اور تھوڑی دیر کے لیے گورنر کے دفتر اور پولیس ہیڈکوارٹر پر قبضہ کر لیا، لیکن بعد میں انھیں نکال باہر کر دیا گیا۔

ایس او ایچ آر نے ایک رضاکار کے حوالے سے بتایا کہ زیادہ ترحملے شہر کے جنوبی حصے مستومہ پہاڑی کے قریب ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ جب دنیا کی نظر دولت اسلامیہ پر مرکوز ہے النصرۃ فرنٹ دھیرے دھیرے قدم جما رہا ہے

باغیوں نے مبینہ طور پر پہاڑی پر قبضہ کر لیا جس کے بعد شامی فوج نے گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے جوابی حملہ کیا جس میں درجنوں باغیوں اور فوجیوں کی ہلاکت کی خبریں ہیں۔

اگرچہ ادلب صوبے کا زیادہ تر حصہ باغیوں کے قبضے میں ہے تاہم ادلب نامی شہر ابھی تک صدر بشار الاسد کی حکومت کے کنٹرول میں ہے۔

بیروت میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جم موئر کا کہنا ہے کہ النصرۃ فرنٹ جنوبی شام کے شمال مغربی علاقوں میں رفتہ رفتہ قدم جما رہا ہے جبکہ دنیا کی توجہ کا مرکز دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی فضائی حملہ ہے۔

اسی بارے میں