برطانیہ ڈوبتے ہوئےتارکین وطن کو بچانے کےلیےتیار نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افریقہ سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی تارکین وطن جنہیں اٹلی کے حکام نے ڈوبنے سے بچایا

برطانوی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کا ملک مستقبل میں بحیرہ روم میں ڈوبتے ہوئے غیر قانونی تارکین وطن کو بچانے کے لیے کوئی ریسکیو آپریشن نہیں کرے گا۔

وزارت خارجہ کی وزیر بیرونس اینلی کا کہنا ہے کہ ان غیر قانونی تارکین کو بچانے کے لیے آپریشن سے یورپ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے لیےمزید لوگ اس خطرناک سمندری راستے کا سہارا لے سکتے ہیں۔

اٹلی گزشتہ ایک سال سے اسی سمندری راستے پر ایک بڑے ریسکیو آپریشن میں مصروف ہے جس کا آغاز لیمپیڈوسا کے ساحل پر 300 کے قریب غیر قانونی تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے واقعہ کے بعد ہوا تھا۔

یورپی ممالک کی بارڈر ایجنسی ’فرانٹکس‘ بھی اسی طرح کا ایک محدود آپریشن سینیچر سے شروع کر رہی ہے لیکن اس آپریشن میں ریسکیو کارروائیاں نہیں کی جائیں گی۔

’محدود امکانات‘:

یورپی یونین کے ’بارڈر کنٹرول‘ حکام ایک اہم اجلاس میں اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ یورپ میں آنے والے غیر قانونی تارکین وطن کے سیلاب کو کیسے روکا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption غیر قانونی تارکین وطن کو بچانے کے بعد امدادی ایجنسی امداد اور سپورٹ فراہم کرتی ہیں

لیبیا سے اٹلی آنے والے غیر تارکین وطن کو گنجائش سے زیادہ کشتیوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح لاد کر لائے جانے میں اضافہ ہوا ہے۔

اٹلی کے حکام صرف گزشتہ بارہ ماہ میں ڈیڑھ لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کو ڈوبنے سے بچا چکے ہیں۔ صرف رواں سال 3000 غیر قانونی تارکین وطن ڈوب چکے ہیں۔

لیکن بی بی سی یورپ کے نامہ نگار، ڈنکن کرافرڈ، کا کہنا ہے کہ فنڈز کی کمی کے باعث اٹلی کی حکومت کو میر ناسٹرم نامی یہ آپریشن بند کرنا پڑا۔

نامہ نگار کے بقول، فرانٹکس کے جانب سے سینیچر کو شروع کیا جانے والا آپریشن کافی محدود ہو گا۔ ان کے پاس کشتیاں کافی کم ہیں اور لوگوں کو ڈوبنے سے بچانے کے کوششیں زیادہ کامیاب نہیں ہو سکیں گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ فرانٹکس صرف پٹرولنگ پر ہی توجہ دے گی اور لوگوں کو بچانے کے لیے گہرے پانیوں میں نہیں جائے گی۔

ہاؤس آف لارڈز میں تحریری جواب داخل کرتے ہوئے بیرونس اینلی کا کہنا تھا کہ اگر برطانیہ غیر قانونی تارکین وطن کو بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن میں حصہ لے تو خدشہ ہے کہ اس سے غیر قانونی وطن زیادہ تعداد میں آنے لگیں گے اور حادثات میں بھی اضافہ ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ریڈ کراس ان غیر قانونی تارکین وطن کی امداد میں پیش پیش ہوتی ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہوتے ہیں

ان کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کو خطرناک سمندری راستے کے ذریعے یورپ میں داخل ہونے سے اسی صورت روکا جا سکتا ہے جب ان سرحدات پر کڑی نظر رکھی جائے جہاں سے یہ اپنا سفر شروع کرتے ہیں۔

برطانیہ اور یورپی یونین کو تنقید کا سامنا:

یورپی کونسل برائے مہاجرین کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ وہ برطانوی اور یورپی پالیسی سے شدید اختلافات رکھتے ہیں۔

بی بی سی ریڈیو فور سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تارکین وطن کے یورپ میں غیر قانونی طور پر داخلے کی ایک بڑی وجہ یورپ میں پناہ حاصل کرنے کے قانونی راستوں اور ذرائع کا نہ ہونا ہے۔

انہوں نے برطانوی اور یورپی پالیسی کو ’مایوس کن‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ ’اخلاقی طور پر قصوروار‘ ہیں۔