’کینیڈا کے لیے خطرہ‘ کے الزام میں پاکستانی گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انصاری اس وقت جیل میں ہیں اور ان کو امیگریشن قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا ہے

کینیڈا کے حکام نے انٹاریو میں رہائش پذیر ایک پاکستانی کو ’کینیڈا کے لیے ایک خطرہ‘ قرار دے کر گرفتار کیا ہے۔

تیس سالہ عقیق انصاری کو انٹاریو سے گرفتار کیا گیا ہے۔ انصاری کے وکیل عنصر فاروق کے مطابق انصاری ایک سافٹ ویئر انجینیئر ہیں اور ان کا تعلق کراچی سے ہے۔

فاروق کے مطابق انصاری کو پستولیں اور بندوقیں جمع کرنے کا شوق ہے۔

فاروق نے کینیڈا کی اخبار دی گلوب اینڈ میل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انصاری پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان کا تعلق کراچی میں شدت پسند تنظیموں سے ہے اور انھوں نے بندوقیں جمع کر رکھی ہیں۔

انصاری اس وقت جیل میں ہیں اور ان کو امیگریشن قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔تاہم کینیڈا کی پولیس نے اس گرفتاری پر کسی قسم کے تبصرے سے انکار کیا ہے۔

انصاری کو انٹاریو پولیس نے 27 اکتوبر کو گرفتار کیا تھا۔ یہ گرفتاری اس وقت کی گئی ہے جب اس سے چند روز قبل ہی اوٹوا میں دو فوجیوں کو حملے میں ہلاک کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ انصاری کو پچھلے سال غیر قانونی طور پر بندوقیں رکھنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔ اس حراست کے بعد انصاری نے ایک ڈیل کے تحت یہ تمام بندوقیں حکام کے حوالے کر دی تھیں اور رہائی پائی تھی۔

بندوقیں رکھنے کے مقدمے میں انصاری کے وکیل ایڈ برلو نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا ’مجھے حیرانگی ہے کہ انصاری کو امیگریشن قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ پچھلے سال جب وہ بندوقوں کے کیس میں گرفتار ہوا تھا تو اس وقت اس پر کینیڈا کے لیے خطرہ ہونے کے الزامات نہیں لگائے گئے تھے۔ اگر یہ الزامات اتنے ہی سنگین ہوتے تو پچھلے سال اس کو کیوں رہا کیا گیا تھا۔‘

اسی بارے میں