مقدس مقام کو بند کرنا ’اعلانِ جنگ‘ ہے: عباس

ربی گلک تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ربی گلک یروشلم کے مقدس مقامات پر یہودیوں کی زیادہ رسائی کے لیے مہم چلاتے رہے ہیں

فلسطینی رہنما محمود عباس کے ایک ترجمان نے بیت المقدس کے مقدس مقامات کو بند کرنے کے اسرائیلی اقدام کو ’اعلانِ جنگ‘ قرار دیا ہے۔

نبیل ابو ردینہ نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرے گی۔

اس کے پہلے اسرائیلی پولیس نے ایک ایسے فلسطینی شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جس کے متعلق شبہ تھا کہ اس نے کچھ دیر قبل دائیں بازو کے ایک سرگرم یہودی کارکن کو گولی ماری تھی۔

اطلاعات کے مطابق جب پولیس نے اس شخص کو چاروں طرف سے گھیر لیا تو اس نے گولی چلا دی جس کے بعد پولیس نے اسے گولی مار دی۔

ربی یہودا گلک کو ایک میٹنگ میں شرکت کرنے کے چند گھنٹے کے بعد گولی ماری گئی جس میں انھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ یروشلم میں مقدس مقام تک یہودیوں کو زیادہ رسائی دی جائے۔ گلک اس واقعے میں شدید زخمی ہو گئے تھے۔

پولیس نے غیر معمولی اقدامات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سائٹ کو سب عبادت گزاروں اور سیاحوں کے لیے بند کر دیا ہے۔ فلسطینی رہنما نے ان اقدامات کی مذمت کی ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق محمود عباس نے کہا ہے کہ ’یروشلم اور اس کے سبھی اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات ایک سرخ لکیر ہیں اور انھیں چھونا ناقابلِ قبول ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمود عباس نے گنبدِ صخرہ کو بند کرنے کے اقدام کو اعلان جنگ قرار دیا ہے

امریکی نژاد ربی گلک مہم چلاتے رہے ہیں کہ یہودیوں کو ٹیمپل ماؤنٹ پر، جسے مسلمان حرم الشریف کہتے ہیں، عبادت کے لیے زیادہ رسائی دی جائے۔

یہ یہودیوں کا سب سے مقدس مقام ہے اور اسی میں الاقصیٰ مسجد بھی ہے جس کو مسلمان کعبہ اور مسجدِ نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام مانتے ہیں۔

ربی گلک پر حملہ ان واقعات میں حالیہ اضافہ ہے جس کی وجہ سے یروشلم میں فلسطینیوں اور یہودیوں کے درمیان تناؤ بڑھا ہے۔

روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق اسلامی گروہ حماس نے ہلاک کیے جانے والے 32 سالہ فلسطینی کا نام معتز حجازی بتایا ہے۔

پولیس کے مطابق حجازی پہلے بھی جیل کاٹ چکے ہیں اور انھیں 2012 میں رہا کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ان کا تعلق شدت پسند تنظیم ’اسلامی جہاد‘ سے تھا۔

پولیس نے کہا جب انھوں نے مشتبہ شخص کا گھر گھیرے میں لے لیا تو ان پر فائرنگ کی گئی جس کے بعد جوابی فائرنگ سے وہ شخص ہلاک ہو گیا۔

ربی گلک کے سینے اور پیٹ میں گولیاں لگی ہیں۔

انھوں نے حملے سے کچھ دیر پہلے ہی ایک کانفرنس میں شرکت کی تھی جس میں مندوبین نے مقدس احاطے پر یہودی دعوے پر غور کیا تھا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اس مقام پر عبادت کی آزادی کا تحفظ کر رہا ہے، جبکہ فلسطینی کہتے ہیں وہ ایسے یک طرفہ اقدامات کر رہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ یہودی سیاحوں کو وہاں جانے کی اجازت دی جائے۔

اس مقام کا منتظم ایک اسلامی ادارہ ہے جبکہ پولیس اس کی سکیورٹی کی انچارج ہے۔

یہودیوں کو اس احاطے میں جانے کی اجازت تو ہے لیکن اسلامی قانون کے مطابق وہ وہاں عبادت نہیں کر سکتے۔

اسی بارے میں