دوسروں کے لیے جان پر کھیلنے والے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نیویارک کی نرس لیا فیلڈمین کہتی ہیں کہ وہ شدت سے افریقہ جانے کا انتظار کر رہی ہیں

جنیوا میں ریڈ کراس کے دفتر کے باہر کھلے میدان میں لوگوں کا ایک گروہ ربڑ کے لبادے، ماسک، خصوصی عینکیں اور دو دو دستانے چڑھانے کی کوششوں میں مگن ہے۔

یہ لوگ اپنے آپ کو ایک ایسے مشن کے لیے تیار کر رہے ہیں جس کے بارے میں ان کے انچارج کا کہنا ہے کہ یہ ’ایک منفرد اور کٹھن مشن ہے۔‘

یہ طبی شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں، ان میں ڈاکٹر اور نرسیں شامل ہیں اور یہ اپنے آپ کو خطرے میں ڈال کر رضاکارانہ طور پر ایبولا سے متاثرہ ملکوں میں امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے جا رہے ہیں۔

ان میں نیویارک کی ایک نرس لیا فیلڈمین بھی شامل ہیں۔ وہ کہتی ہیں:

’مجھے ایسا لگا جیسے یہ میری ذمہ داری ہے۔ میرے پاس ہر قسم کا ہنر موجود ہے اور مجھے لگتا ہے کہ میں اپنی خدمات پیش کر سکتی ہوں۔ میرا خیال ہے کہ یہ وہ خطہ ہے جو ہماری توجہ چاہتا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہم ان لوگوں کو طبی مدد فراہم کر کے ان کی زندگیوں میں بہتری لا سکتے ہیں جنھیں مناسب طبی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔‘

فیلڈمین کہتی ہیں کہ امریکہ میں طبی عملے کے ایبولا میں مبتلا ہونے کے کیسوں کے باوجود انھیں اپنی صحت کے بارے میں کوئی فکر نہیں ہے:

’یہ وہ پہلا سوال ہے جو لوگ کرتے ہیں۔ لیکن نہیں، خطرہ کم کرنے کے لیے طے شدہ اصول و ضوابط موجود ہیں، اور یہ میری اپنی ذمہ داری ہے کہ میں جتنا چاہوں اتنا محفوظ رہ سکتی ہوں۔‘

فیلڈمین کی ذمہ داریوں میں ایبولا سے متاثرہ ملکوں میں قدم رکھنے سے پہلے ریڈکراس کا تربیتی کورس مکمل کرنا شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لباس پہننے میں معمولی سی بےاحتیاطی بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے

یہ بہت مشکل اور دقت طلب تربیتی عمل ہے، جس میں رضاکاروں سے بہت سی نئی چیزیں سیکھنے کو کہا جاتا ہے۔

انھیں ایبولا کے وارڈ میں داخل ہونے سے پہلے حفاظتی لباس کی کئی تہیں چڑھانا پڑتی ہیں۔ ہر چیز کو مناسب ترتیب اور مناسب طریقے سے پہننا پڑتا ہے، اور ایک نگران ان پر کڑی نظر رکھتا ہے۔ یہ لباس پہننے میں 15 منٹ لگتے ہیں اور لباس پہننے کے بعد بھی بار بار دستانوں پر جراثیم کش مواد چھڑکنا پڑتا ہے۔

ایبولا جسمانی رطوبتوں سے پھیلتا ہے، اس لیے جلد، اور اس سے بھی بڑھ کر آنکھیں، ناک اور منھ ہر صورت ڈھکے ہوئے ہونے چاہییں۔

ریڈکراس کے ہنگامی صحت کے شعبے کے ہیلتھ آفیسر پانو ساریتو کہتے ہیں: ’نرسوں اور ڈاکٹروں، اور مریضوں کے درمیان پایا جانے والے بےحد اہم باہمی تعامل بالکل ختم ہو جاتا ہے۔ ہم جب یہ لباس پہنتے ہیں تو بالکل ایلیئن لگتے ہیں۔‘

فیلڈ مین کہتی ہیں کہ یہ لباس سخت غیرآرام دہ ہے: ’یہ گرم اور محصور کر دینے والا لباس ہے۔ میں ابھی سوئٹزرلینڈ میں ہوں، تو پھر سوچیے کہ (لائبیریا کے دارالحکومت) منروویا میں کیا حال ہو گا۔‘

ساریتو کہتے ہیں کہ رضاکاروں کو جو پہلی چیز سکھائی جاتی ہے وہ یہ کہ ہر قدم بہت آہستگی سے لینا ہے۔

’مغربی ملکوں میں صحت سے شعبے سے وابستہ اہلکار ہر کام جلدی جلدی کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ وہ ایک مریض سے دوسرے مریض کی طرف دوڑتے ہیں۔ لیکن یہ وہ واحد جگہ ہے جہاں انھیں سیکھنا ہو گا کہ کسی کام میں جلدی نہ کریں کیوں کہ یہاں اصل توجہ تحفظ اور انفیکشن سے بچاؤ پر ہے۔‘

ساریتو کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ ایبولا کے مریضوں کا علاج کرتے وقت نفسیاتی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑے گا: ’بہت سی اموات ہو رہی ہیں، انھیں دل خراش مناظر دیکھنا پڑیں گے، بچے جو والدین سے بچھڑ گئے یا والدین جن کے بچے ان سے بچھڑ گئے۔‘

لیکن رضاکاروں کے لیے سب سے مشکل بات یہ ہے کہ ان کے اپنے ملکوں میں ایبولا کا علاج کرنے والے کے بارے میں خوف پایا جاتا ہے۔

امریکہ نے حال میں ایبولا کا علاج کرنے والے عملے کو الگ تھلگ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر ریڈکراس اور دوسرے بین الاقوامی اداروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے، کیوں کہ انھیں ڈر ہے کہ اس طرح ان رضاکاروں کی دل شکنی ہو گی جن کی ایبولا سے متاثرہ ملکوں میں ضرورت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اپنے ملک واپس آنے کے بعد ان رضاکاروں کو معاشرتی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

ساریتو کہتے ہیں: ’بعض مواقع پر بالکل بےتکا ردِ عمل دکھایا گیا ہے۔ غلط فہمیاں، خوف، کلنک، یہ چیزیں سائنس پر مبنی نہیں ہیں۔‘

لیا فیلڈمین کو نہیں معلوم کہ اپنے شہر نیویارک لوٹنے کے بعد انھیں کس سلوک کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم وہ کہتی ہیں کہ اگر ان کی حکومت اپنے عوام کے تحفظ کے لیے کچھ قدم اٹھاتی بھی ہے تو وہ ان کی پاسداری کریں گی۔

تربیت ختم ہونے کے بعد فیلڈمین کو اگلے چند ہفتوں کے اندر اندر افریقہ جا کر ایبولا کے مریضوں کے علاج میں مدد دینا ہو گی۔ بعض رضاکار اس سخت تربیت سے گھبرا کر چلے گئے لیکن وہ کہتی ہیں کہ وہ شدت سے افریقہ جانے کا انتظار کر رہی ہیں۔

انھوں نے کہا: ’اگر آپ کسی کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو یہ اس کا بہترین موقع ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں آپ خلا کو پر کر سکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں