عراقی کرد پیش مرگہ کے جنگجو کوبانی میں داخل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اطلاعات کے مطابق 150 پیش مرگہ جنگجو درجنوں گاڑیوں اور بکتر بند گاڑیوں میں فرنٹ لائن کی جانب جا رہے ہیں

شام اور ترکی کی سرحد پر واقع کوبانی شہر میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے کے لیے عراق کے کرد پیش مرگہ نے ترکی کی سرحد عبور کر لی ہے۔

کوبانی میں ذرائع نے بی بی سی عربی کو بتایا کہ پیش مرگہ کا یہ گروپ فرنٹ لائن کی جانب بڑھ رہا ہے۔

کوبانی کا پچھلے چھ ہفتوں سے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے محاصرہ کر رکھا ہے اور اس جنگ میں 800 افراد ہلاک جبکہ دو لاکھ سے زیادہ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق 150 پیش مرگہ جنگجو درجنوں گاڑیوں اور بکتر بند گاڑیوں میں فرنٹ لائن کی جانب جا رہے ہیں۔

پیش مرگہ جنگجوؤں نے پیش مرگہ کے جھنڈے اٹھا رکھے ہیں اور کوبانی کوبانی کے نعرے لگاتے جا رہے ہیں۔

ترکی کی سرحد سے ملحق شام کے شہر کوبانی پر کنٹرول حاصل کرنا دولت اسلامیہ کے اہداف میں بڑی اہمیت کا حامل ہے اور اس پر قبضے کی جنگ کے نتیجے میں زیادہ تر شہریوں کو شہر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

شام اور عراق کے بڑے علاقے پر دولت اسلامیہ کے تیزی سے قابض ہوجانے نے مغربی ممالک کو ہلا کر رکھ دیا اور انھیں فضائی حملے کی تحریک دی۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ ایوان سیمونووک نے اقلیتوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کو جنگی جرائم کے زمرے میں قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ دولت اسلامیہ کو روکنے کے لیے امریکی فضائہ نے بھی بمباری کی ہے اور کوبانی میں کرد جنگجوؤں کے لیے بھاری اسلحہ بھی گرایا ہے۔

اسی بارے میں