دس چیزیں جن سے ہم لاعلم تھے

تصویر کے کاپی رائٹ AP

1۔ امریکہ نے سوویت یونین کے خلاف سرد جنگ کے دوران کم از کم ایک ہزار سابق نازیوں کو جاسوسی کے لیے استعمال کیا تھا۔

مزید جاننے کے لیے کلک کریں

2۔ جس جگہ کھجلی ہو رہی ہو وہاں مزید کھجلی کرنے سے کھجلی میں اضافہ ہوتا ہے۔

مزید جاننے کے لیے (ڈیلی میل)

3۔ اینگلیکن پادریوں کی دو فیصد تعداد کے ذہنوں میں یہ سوال ہے کہ ’ہو سکتا ہے کہ خدا انسان کی ذہنی اختراع ہو‘۔

مزید جاننے کے لیے (ٹائمز)

4۔ نیو یارک میں مینڈکوں کی ایک خاص نسل پائی جاتی ہے جو کئی دہائیوں تک دریافت نہ ہوسکی۔

مزید جاننے کے لیے (نیشنل جیو گرافک)

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

5۔ لندن میں 13ویں صدی سے شیر پائے جاتے ہیں۔ شیروں کی لندن میں آمد 1210 یا 1232 میں ہوئی۔ ہوسکتا ہے کہ 1436 میں ہینری ششم کے عہد کے دوران کچھ عرصے کے لیے یہ شیر مکمل طور پر ختم ہو گئے ہوں۔

مزید جاننے کے لیے کلک کریں

6۔ ساج نامی خوشبو دار پودے کے باعث دماغ زیادہ بہتر کام کرسکتا ہے۔

مزید جاننے کے لیے کلک کریں

7۔ دنیا کی دوسری سب سے بڑی کروز شپ پر فرینچ فرائیز اور پیزا کی مانگ میں اس وقت اضافہ ہو جاتا ہے جب زیادہ امریکی اور بچے سفر کر رہے ہوں۔

مزید جاننے کے لیے (نیو یارکر)

8۔ لندن کا مشہور ہوٹل دا رٹز اب بھی کمروں کے لیے جدید کارڈز کی بجائے چابیاں ہی استعمال کر رہا ہے۔

مزید جاننے کے لیے کلک کریں

9۔ ڈنمارک کے لوگ زیادہ خوش اس لیے ہیں کہ جینیاتی طور پر ان کے دماغ میں سیروٹونن کا طویل ورژن اثر انداز ہوتا ہے جبکہ برطانوی اور امریکیوں کے دماغوں پر اس کا مختصر ورژن اثر انداز ہوتا ہے۔

مزید جاننے کے لیے (دی انڈیپینڈنٹ)

10۔ موسیقاروں کی متوقع عمر اتنی ہی جتنی کہ زمبابوے کے رہائشیوں کی ہے۔

مزید جاننے کے لیے (ٹائمز)

اسی بارے میں