ہر پریشانی سے پریشان نہ ہوں

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption ایک طویل عرصے کے بعد مجھے بڑھتی ہوئی بے چینی کے کئی قسم کے حل ملے ہیں

آدم گوپنک کئی سالوں سے اپنی پریشانیوں کے حل تلاش کر رہے ہیں۔

لندن اور پیرس میں رپورٹنگ کرنے کے بعد اس ہفتے میں نیویارک پہنچا اور پورے شہر کو ایبولا کی وبا کے بارے میں گھبراہٹ میں پایا۔

اب ایبولا ایک ایسی بیماری ہے جس کے بارے میں یقیناً پریشان ہونا جواز بنتا ہے۔ یہ ایک خوفناک اور انتہائی متعدی مہلک بیماری ہے۔ میری پریشانیوں کی فہرست میں یہ ایک بڑی فکر ہے کیونکہ میری دیگر پریشانیاں اس سے کم اہم ہیں، مثلا کیا چیلسی کے ڈیاگو کوسٹا مانچسٹر یونائیٹڈ میں کھیلنے کے لیے فٹ ہیں یا نہیں۔

انتہائی قسم کی بے چینی نیو یارک کی شناخت سمجھی جاتی ہے اور بلا وجہ کی اداسی پیرس کی پہچان۔

ایک طویل عرصے کے بعد مجھے بڑھتی ہوئی بے چینی کے کئی قسم کے حل ملے ہیں، جو میں آپ کو بتاؤں گا۔

جدید لوگوں کوچار مختلف قسم کی بےچینیاں ہیں اور ہر بے چینی اپنی تشخیص کے ساتھ آتی ہیں۔ ان فکروں کو ہم تباہ کن بے چینی، دائمی پریشانی، بیرونی اثرات کی وجہ سے پریشانی اور وجود کی پریشانی کے نام دے سکتے ہیں۔ آئیے انہیں ایک ایک کر کے دیکھتے ہیں۔

تباہ کن بے چینی کبھی بھی اچانک کسی بُرے واقعے کے خدشے سے ہوتی ہے۔ جیسے کہ جہاز گرجائے گا یہ آپ کی بس میں دیشتگرد بم پھاڑ سکتا ہے۔ اس قسم کے خوف کا سب سے بہترین حل مجھے میں نے تاش کے کھیل سے سیکھا۔

ایک پیشہ ور تاش کے کھلاڑی سے میں نے ایک بڑی اہم بات سیکھی اور وہ یہ کہ تاش میں دھوکا دینے والے کو پتوں کے اعداد و شمار اور تمام امکانات اچھی طرح جان لینے چاہیں۔

اس چال کا سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ میں ان چیزوں کے مثبت اثرات کے بارے میں سوچنے لگا بجائے اس کے کہ میں منفی اثرات کے بارے میں سوچتا۔جب آپ اپنے خوف کو خواہشات میں تبدیل کریں گے تو آپ کو نظر آئے گا کہ وہ ڈر حقیقت سے کتنے دور ہے۔

دائمی پریشانی سب سے بری قسم کی پریشانی ہے، کیونکہ ایک پریشانی ختم ہونے پر دوسری شروع ہو جاتی ہے۔ کل کام سے نکال دیا جاؤں گا، کرایہ یا قرض واپس نہیں کر سکوں گا، بچوں کی سکول کی فیس کا کیا ہوگا۔

پریشانیوں کی یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔ یہ پریشانی اتنی بُری ہے کہ اس سے متاثر شخص اکثر صرف ادوایات سے ہی ٹھیک ہو سکتے ہیں۔

لیکن اس بیماری کو ہم انسانی فطرت، اور انسانی خواہشات کا ایک پہلو بھی سمجھ سکتے ہیں۔ خود تجدیدِ فکر ہم انسانوں کی شکاری نوعیت کی میراث ہے. شیر بھی بے چینی سے بھرپور درندے ہیں - ان کی آنکھوں میں دیکھیں تو آپ کو عظمت نہیں بلکہ ایک پریشانی نظر آئےگی۔ کہیں مجھے زیبرے نے دیکھ تو نہیں لیا؟ میں اس کے کتنے قریب آگیا ہوں؟ کیا مجھے اب حملہ کر دینا چاہیے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ۔شیر بے چینی سے بھرپور درندے ہوتے ہیں

بیرونی اثرات کی وجہ سے پریشانیاں، تبا کن پریشانیوں کی طرح ہی ہوتی ہیں لیکن یہ بڑے حادثوں کے بجائے عوامی خدشات سے متعلق ہیں ہوتی ہیں جو زیادہ تر خبروں کی وجہ سے ظاہر ہوتی ہیں۔

عراق میں کل کے خدشات دولت اسلامیہ سے متعلق تھے، تو آج ہم ایبولا کی وبا سے پریشان ہیں۔ یہ پریشانی خبروں کی ثقافت میں رہنے کی وجہ سے ہوتی ہیں کیونکہ خبریں زیادہ تر خوفناک ہوتی ہیں۔

اس پریشانی کا ایک ہی حل ہے اور یہ ہے کہ آپ کو خود کو ایسی خبروں سے کبھی کبھی دور رکھنا چاہیے، چاہے تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی۔

وجودگی کی پریشانی وہ پریشانی ہے جس سے ہم نہیں بچ سکتے۔ ہماری موت کے امکانات کم نہیں ہیں، بلکہ یہ تو طے ہے کہ ہمیں مرنا ہے۔اور اگر ہم اس سچ سے خود کو الگ بھی رکھیں (جو ہم زیادہ تر کرتے ہیں)، ہمارے پیاروں کی موت کی شرح ہمارے لیے ایک انتہائی پریشانی کا سبب بنی رہتی ہے۔ ایک دفعہ ایک 20 برس کا لڑکا مر گیا اور اس کی زندگی کے ساتھ ساتھ اس کے والدین اور دوستوں کی زندگی بھی ختم ہو گئی۔ غم مطلق ہے!

اپنی بہتری کے لیے ہم صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ ہم دیگر تین قسم کی پریشانیوں کو کم کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، تاکہ ہمارے پاس جتنا وقت بچا ہے ہم اس میں زندگی کی خوبیوں کے بارے میں سوچیں بجائے ان چیزوں کے بارے میں جو ہماری ہاتھ میں نہیں، اور جن کا ہمارے پاس کوئی حل بھی نہیں۔

اسی بارے میں