’نائن الیون کارٹون غلط نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کارٹون کی اشاعت کے بعد معاشرتی رابطوں کی ویب سائٹس پر اخبار کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا

ایک اسرائیلی اخبارنے اپنے صفحات پر امریکہ اور اسرائیل کے باہمی تعلقات کے بارے میں گذشتہ ہفتے جو کارٹون شائع کیا تھا اس کا دفاع کیا ہے۔

مذکورہ کارٹون میں اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کو امریکہ پر 11 ستمبر کے دہشت گرانہ حملوں کی نسبت سے ایک ہوائی جہاز اڑاتے ہوئے دکھایا گیا تھا جو نیویارک کے ٹوِن ٹاور کی جانب بڑھ رہا ہے۔

مشہور اسرائیلی روزنامے ’ہارٹز‘ میں کارٹون کی اشاعت کے بعد معاشرتی رابطوں کی ویب سائٹس پر اخبار کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے سینیئر افسر پال ہرچسن نے کارٹون کو نہایت گھٹیا قرار دیتے ہوئے اسے ’گٹر پریس‘ کا نام دیا تھا۔

لیکن بائیں بازو کے نمائندہ اخبار ہارٹز کے مدیرِاعلیٰ الوف بین کا کہنا ہے کہ اعتراض کرنے والے لوگ اس کارٹون کو ’غلط انداز‘میں دیکھ رہے ہیں کیونکہ کارٹون کا مقصد محض وزیرِ اعظم نتن یاہو اور اوبامہ انتظامیہ کے درمیان عدم اعتمادی کی موجودہ فضا کی عکاسی کرنا تھا۔

’کارٹونسٹ ایماس بائڈرمین نے اس کارٹون کے ذریعے وزیر اعظم نتن یاہو کے مشرقی یروشلم اور غربِ اردن میں نئی بستیوں کے قیام کے اعلان اور وزیر اعظم کے اس ’طعنے کی عکاسی کرنے کی کوشش کی ہے کہ امریکہ اسرائیلی مفادات کے خلاف کام کر رہا ہے۔‘

مدیر اعلیٰ نے اپنے اخبار کے اداریے میں لکھا کہ ’ میرا اخبار دل کی گہرائیوں سے ان لوگوں کی احترام کرتا ہے جو ان حملوں میں ہلاک ہوئے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس کارٹون کو ’غلط سمجھنے‘ سے 11 ستمبر کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو جو دکھ پہنچا ہے اخبار کو اس پر ’شدید رنج‘ ہوا ہے۔

ہارٹز کے مدیرِ اعلیٰ کے اس مضمون سے پہلے ناقدین نے کارٹون کی اشاعت پر اخبار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ امریکہ میں یہودی مخالف مواد کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’اینٹی ڈیفمیشن لیگ‘ کے صدر ابراہم فوکسمین نے کارٹون کو ’بے تُکا اور انتہائی غیر ذمہ دارنہ‘ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ اخبار اس پر معافی مانگے۔

ابراہم فوکسمین کاکہنا تھا کہ ’یہ کارٹون نہ صرف امریکی حکومت اور مسٹر نتن یاہو کے درمیان پائے جانے والے مبینہ تناؤ کی غلط عکاسی کرتا ہے، بلکہ ان ہزاروں معصوم امریکیوں اور دیگر لوگوں کے جذبات مجروح کرتا ہے جو نائن الیون کے حملوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔‘

ان کے بقول کارٹون نے یہودی مخالف سازشی نظریات کو بھی ہوا دی ہے۔

ناقدین کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کارٹونسٹ ایماس بائڈرمین کا دعویٰ ہے کہ کارٹون کا پیغام یہ تھا کہ ’نتن یاہو تکبر اور غرور میں مبتلا ہو کر اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو تباہ کر رہے ہیں جس سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں اتنی بڑی تباہی آ سکتی ہے جتنی 11 ستمبر کے دن امریکہ میں آئی تھی۔‘

یہ کارٹون جمعرات کو ایک نامعلوم امریکی افسر کے اس بیان کے بعد شائع ہوا تھا جس میں مذکورہ افسر نے اسرائیلی وزیرِاعظم پر ان کی مبینہ بزدلی اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑوں کے حوالے سے شدید تنقید کی تھی۔

اسی بارے میں