برما کے اصلاحات کا عمل تعطل کا شکار : آنگ سان سوچی

آنگ سان سوچی تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آنگ سان سوچی نے اصلاحات کے وعدے پر سیاسی عمل میں حصہ لیا تھا

برما میں حزبِ اختلاف کی رہنما آنگ سان سوچی نے کہا ہے کہ ملک میں اصلاحات کا عمل رکا گیا ہے۔ انھوں نے اس بات کی بھی تنبیہہ کی کہ اس سے زیادہ توقعات وابستہ نہ کی جائیں۔

بدھ کو ینگون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نوبیل انعام یافتہ آنگ سان سوچی نے کہا کہ برما میں گذشتہ دو برسوں سے کوئی حقیقی اصلاحات نہیں ہوئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سینیر سیاستدانوں اور فوج کے رہنما سے اعلیٰ سطح کے مذاکرات میں بھی کچھ حاصل نہیں ہوا۔

اگلے ہفتے برما عالمی رہنماؤں کے ایک اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔

اس اجلاس میں صدر اوباما بھی حصہ لے رہے ہیں اور یہ ملک کی تاریخ کاایک اہم ترین اجلاس ہے۔

نیشنل لیگ آف ڈیموکریسی کی رہنما سوچی نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا وقت تھا جب امریکی حکومت اصلاحات کے عمل کے متعلق حد سے زیادہ پر امید تھی۔‘

انھوں نے کہا تاہم اہم اصلاحات کا نہ ہونا بھی ایک چیز ہے جسے امریکہ سنجیدگی سے دیکھتا ہے۔

سنہ 2010 کے عام انتخابات میں برما کے صدر تھین سین نے اصلاحات کا عمل شروع کیا تھا جس کے نتیجے میں سوچی کی جمہوریت پسند حزبِ مخالف نے سیاسی عمل کا حصہ بننے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

سوچی سنہ 2012 میں پارلیمان کی رکن بنی تھیں۔ وہ اصلاحات کے عمل کی سست روی پر تنقید کرنے والی پہلی شخصیت نہیں ہیں۔

گزشتہ ہفتے برما میں انسانی حقوق کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی نمائندۂ خصوصی یانگی لی نے بھی جنرل اسمبلی کو بتایا تھا کہ اگرچہ کچھ پیش رفت ہوئی ہے لیکن ایسے شواہد بھی ہیں کہ اصلاحات کے بجائے حالات بگڑا کا شکار ہوئے ہوں، جیسا کہ نسلی تصادم، سیاسی قیدیوں کو سزائیں اور رونجیا ریاست میں تشدد۔

اسی بارے میں