یروشلم: کار ڈرائیور نے کئی افراد کو کچل دیا

Image caption اس واقعے کے بعد کار ڈرائیور سکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا

یروشلم کے مقدس مقام حرم الشریف میں پولیس اور فلسطینی شہریوں کے درمیان تصادم کے واقعے کے چند گھنٹے بعد شہر کے مشرقی علاقے میں ایک کار ڈرائیور نے پیدل چلنے والے متعدد افراد کو کچل دیا ہے۔

اس واقعے سے چندگھنٹے پہلے شہر کے مقدس مقام حرم الشریف میں اسرائیلی پولیس اور فلسطینی شہریوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 12 کے قریب افراد زخمی ہو گئے تھے۔

پولیس کے ترجمان کے مطابق ’مشتبہ شدت پسند حملے‘ میں کم از کم تین افراد شدید زخمی ہوئے اور کار ڈرائیور سکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔

گذشتہ ہفتے ٹیمپل ماؤنٹ یا حرم الشریف کو فلسطینی مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کے واقعے کے لیے مختصر وقت کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔

یروشلم میں دائیں بازو کے نمایاں یہودی کارکن ربی یہودا گلک پر فائرنگ کے واقعے کے بعد سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

یہودا گلک حرم الشریف میں یہودی کو عبادت کے لیے زیادہ رسائی دینے کی اجازت دینے کی مہم میں سرگرم تھے۔

حرم الشریف اسلام اور یہودیت کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے اور یہاں دو اہم مساجد، مسجدِ اقصیٰ اور قبۃ الصخرہ واقع ہیں۔

اسرائیلی پولیس کے مطابق بدھ کو درجنوں نقاب پوش مظاہرین نے غیر مسلم افراد کے داخلی دروازے پر تعینات پولیس اہلکاروں کو پتھروں اور فائر ورکس سے حملہ کیا۔

برطانوی خبر رساں روئٹرز نے احاطے میں فلسطینی مینیجر کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس واقعے میں کم از کم 20 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption یروشلم میں موسم گرما میں غزہ کے بحران کے بعد سے صورتحال کشیدہ ہے

یروشلم میں موسم گرما میں غزہ کے بحران کے بعد سے صورت حال کشیدہ ہے اور مشرقی یروشلم کے اضلاع میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور فلسطینوں کے درمیان متعدد بار جھڑپیں ہو چکی ہیں۔

اس سے پہلے گذشتہ جمعرات کو اسرائیلی پولیس نے شہر میں کشیدگی کے بعد حرم الشریف کو ایک دن کے لیے بند کر دیا تھا۔

اس سے ایک دن پہلے اسرائیلی پولیس نے ایک ایسے فلسطینی شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جس کے متعلق شبہ تھا کہ اس نے کچھ دیر قبل دائیں بازو کے ایک سرگرم یہودی کارکن ربی یہودا گلک کو گولی ماری تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption حرم الشریف اسلام اور یہودیت کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے

اس فلسطینی کو جمعے کے روز مشرقی یروشلم میں دفنا دیا گیا۔

اس کے بعد اسرائیلی پولیس نے حرم الشریف کو سب عبادت گزاروں اور سیاحوں کے لیے بند کر دیا تھا، جس کی فلسطینی رہنما محمود عباس نے مذمت کرتے ہوئے کہا تھا: ’یروشلم اور اس کے سبھی اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات سرخ لکیر ہیں اور انھیں چھونا ناقابلِ قبول ہے۔‘

محمود عباس کے ایک ترجمان نبیل ابو ردینہ نے بیت المقدس کے مقدس مقامات کو بند کرنے کے اسرائیلی اقدام کو’اعلانِ جنگ‘ قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں