’امریکی سیاست کوئی مقابلۂ حسن نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

امریکہ میں ریپبلکن پارٹی نے توقع کے مطابق سینیٹ پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ لیکن وسط مدتی انتخابات میں کئی نتائج توقع سے بالکل برعکس سامنے آئے ہیں۔ آخر امریکیوں نے کن کن ایشوز پر ووٹ ڈالا اور کون کون سی روایتی نشستیں پارٹیوں کے ہاتھوں سے نکل گئیں۔

امریکی ووٹر قانونی طور پر گانجا مانگتے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گانجا انتخابی مہم کا ایک بڑا موضوع رہا

یہ ریپبلیکنز کے لیے انتخاب لڑنے کے لیے بڑی اچھی رات تھی، لیکن بیلٹ کے حوالے سے ترقی پسندانہ اسباب نے بھی بڑا انوکھا رنگ دکھایا۔

واشنگٹن ڈی سی اور اوریگان میں ووٹروں نے تھوڑی مقدار میں نجی استعمال کے لیے گانجا رکھنے کے حق میں بھی ووٹ ڈالا۔ الاسکا میں بھی اسی طرح کی تجویز سامنے آئی، جبکہ فلوریڈا میں طبی استعمال کے لیے گانجا رکھنے کی اجازت بھی تقریباً منظور ہوتے ہوتے رہ گئی۔

آرکانساس، نیبراسکا اور ساؤتھ ڈیکوٹا نے جو کہ ریپبلیکنز ریاستیں ہیں، کم از کم اجرت کو بڑھانے کے حق میں ووٹ ڈالا۔ کولوراڈو اور نارتھ ڈیکوٹا میں ریپبلیکنز کو فتح تو ملی لیکن ساتھ ساتھ وہاں اسقاط حمل کے خلاف اقدامات کو بھی رد کیا گیا۔

بڑے نام ہمیشہ کام نہیں آتے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آ چکی ہے۔ ووٹروں نے خاندانوں کو ووٹ نہیں ڈالے

امریکہ میں سیاسی خاندان جیسا کہ بشز، کلنٹنز اور کینیڈیز ہمیشہ بڑا اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور پسند کیے جاتے ہیں۔

لیکن اس مرتبہ جیسن کارٹر کے ساتھ کچھ الٹ ہوا۔ کارٹر جو کہ سابق صدر جمی کارٹر کے نواسے ہیں ڈیموکریٹس کی سیٹ پر جیورجیا کی گورنری چاہتے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اسی ریاست میں مشیل نن جو کہ سابق سینیٹر سام نن کی بیٹی ہیں ووٹروں کو اپنی طرف راغب نہ کر سکیں۔

آرکنساس کے سینیٹر مارک پرائر کی انتخابی مہم میں اگرچہ ان کے والد ڈیوڈ پرائر نے بھی حصہ لیا تھا لیکن اس مرتبہ انھیں اس عہدے سے ہاتھ دھونا پڑا۔

لوئزیانا میں سینیٹر میری لونڈری کو ’رن آف‘ یا دوبارہ انتخابات کا سامنا ہے۔ اگرچہ وہ نیو آرلینز کے سابق اور حالیہ میئرز مون لونڈری اور مچ لونڈری کی بیٹی اور بہن ہیں۔

عورتیں تو بڑی خبر ہیں لیکن ’عورتوں کے خلاف جنگ‘ نہیں

الما ایڈمز کی نارتھ کیرولینا کی بارہویں ڈسٹرکٹ میں فتح کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کانگریس میں ووٹ ڈالنے والوں خواتین کی تعداد سو سے تجاوز کر گئی ہے۔

اس کے علاوہ ریپبلیکنز کی جونی ارنسٹ آئیوا کی نمائندگی کرنے والی اور سینیٹ میں جانے والی پہلی سابق فوجی خاتون بن گئی ہیں۔

شیلی مور کیپیٹو ویسٹ ورجینیا کی پہلی خاتون سینیٹر اور نیو یارک سے تعلق رکھنے والی ایلز سٹیفانک کانگریس میں جانے والی سب سے کم عمر خاتون بن گئی ہیں۔ 18 سائرہ بلیئر سب سے کم عمر قانون ساز اور جینا ریمنڈ، رہوڈ آئلینڈ کی پہلی خاتون گورنر بنی ہیں۔

ڈیموکریٹس کے دعوے سچ ثابت نہ ہوئے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ریپبلیکن لیری ہوگان میری لینڈ میں ڈیموکریٹس کی ایک اہم نشست جیت گئے

سینیٹ کے ہاتھ سے جانے کے بدلے ڈیموکریٹس کی تسکین کے لیے کچھ تو انعام ہوتا۔ ماہرین کا خیال تھا کہ گورنری سینیٹ کی سیٹیں ہارنے کے حوالے سے تسلی کے لیے ایک چھوٹا سا انعام ہو گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔

گورنری کی دوڑ میں سب سے بڑا دھچکہ اس وقت لگا جب ریپبلیکن پارٹی کے امیدوار لیری ہوگان میری لینڈ میں جو روایتی طور پر ڈیموکریٹس کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، جیت گئے۔

بریڈ پٹ سے موازنہ بھی کام نہ آیا

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ریپبلیکنز کے بریڈ پِٹ: ووٹروں نے ثابت کیا کہ آخر چہرہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا

ریپبلیکنز کے امیدوار سٹیورٹ ملز کو اس انتخابی مہم کے دوران بڑی توجہ ملی۔ نہیں نہیں اس کی وجہ صرف ان کے صدر اوباما کے 2010 کے ہیلتھ کیئر ریفارمز کی مخالفت یا ان کی اسلحہ رکھنے کے حقوق کی حمایت نہیں بلکہ اس کی وجہ ان کے لمبے بال اور ان کی ہالی وڈ کے ایک مشہور اداکار سے مماثلت بھی تھی۔

انھیں ریپبلیکنز پارٹی کا بریڈ پِٹ بھی کہا گیا۔

انھیں ایک اشتہار میں یہ کہتے دکھایا گیا ہے کہ ’میں روایتی سیاستدان جیسا نہیں لگتا۔‘

لیکن یہ شاید مینیسوٹا کے آٹھویں ڈسٹرکٹ میں رک نولان کو ہرانے کے لیے کافی نہیں تھا۔

نولان ملک کی سب سے مہنگی انتخابی دوڑ کے بعد دوبارہ جیت گئے۔ لیکن اس مہم سے یہ ضرور ثابت ہوا کہ امریکی سیاست کوئی مقابلۂ حسن نہیں ہے۔

اسی بارے میں