’لوگ مجھے دیکھ کر ایبولا پکارتے ہیں‘

Image caption وہ میرا مذاق اڑاتے ہیں، مجھے گالیاں دیتے ہیں، اور کبھی کبھار مجھ پر حملہ کر دیتے ہیں: کابو

افریقی ملک سیئرا لیون میں مریاتو کابو اپنے مکان سےمرکزی شاہراہ کی جانب چلیں تو لوگوں نے چلّانا شروع کر دیا، ’ایبولا۔‘

یہ طنز بھی ہو سکتا ہے اور دھمکی بھی۔ فری ٹاؤن کے غریب علاقے میں لوگوں کا خیال ہے کہ کابو اپنی نئی نوکری کی وجہ سے علاقے میں ایبولا کا وائرس پھیلا دیں گی۔

چھ بچوں کی 37 سالہ ماں کابو کہتی ہیں: ’وہ میرا مذاق اڑاتے ہیں، مجھے گالیاں دیتے ہیں۔ اور کبھی کبھار مجھ پر حملہ بھی کر دیتے ہیں۔‘

کابو نے دو ہفتے قبل ریڈ کراس کی اس ٹیم میں شمولیت اختیار کی ہے جو ایبولا وائرس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین کرتی ہے۔

کابو کا کہنا ہے: ’لوگ مجھے جو مرضی کہیں، میں اپنے آپ سے کہتی ہوں کہ اگر یہ کام میں نہ کروں تو اور کون کرے گا؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کابو اور ان کی ٹیم کے ارکان کو دس منٹ گلابی سوٹ، دستانے اور عینکیں پہننے میں لگے

سیئرا لیون کے ایک اور علاقے واٹر لو میں ان کے سپروائزر کا کہنا ہے کہ ایبولا کے ہاتھوں دو افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔ یہ علاقہ ایبولا سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔

ٹیم اس علاقے کی جانب روانہ ہوئی۔ ایک مکان کے باہر لوگ جمع ہیں اور عورتیں رو رہی ہیں۔

ایک شخص ٹیم کے پاس آیا اور کہا کہ ایک شخص ایبولا سے متاثر ہوا ہے۔

ٹیم کے ایک اہلکار نے کہا: ’ہم یہاں صرف ہلاک ہونے والے افراد کے لیے آئے ہیں۔ مریض کے لیے آپ کو ہاٹ لائن پر اطلاع دینی ہو گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’مجھے یہ کام کرتے ہوئے ڈر نہیں لگتا کیونکہ یہ سوٹ محفوظ ہیں‘

کابو اور ان کی ٹیم کے ارکان کو دس منٹ گلابی سوٹ، دستانے اور عینکیں پہننے میں لگے۔ کابو کا کہنا ہے: ’اس سوٹ میں بہت گرمی لگتی ہے۔ مجھے بہت پسینہ آتا ہے۔ میں بہت پانی پیتی ہوں، لیکن اب مجھے عادت ہو گئی ہے۔ مجھے یہ کام کرتے ہوئے ڈر نہیں لگتا کیونکہ یہ سوٹ محفوظ ہیں۔‘

کابو سب سے پہلے مکان میں داخل ہوئیں: ’جب کوئی عورت مرتی ہے تو میں سب سے پہلے جاتی ہوں اور اس پر چادر ڈالتی ہوں تاکہ ٹیم کے مرد اس کو برہنہ حالت میں نہ دیکھ سکیں۔ میں اسی لیے یہ کام کر رہی ہوں۔‘

دس منٹ میں ٹیم نے اپنا کام مکمل کر لیا اور وین کے پیچھے دونوں لاشیں رکھ کر روانہ ہو گئی۔ اس سے قبل یہی وین جرمنی کے بنے ہوئے ریڈی ایٹر کی تنصیب کرنے والی کمپنی استعمال کرتی تھی۔

کابو کہتی ہیں: ’او میرے خدایا۔ یہ آسان کام نہیں تھا۔ میں بہت ڈر گئی، کیونکہ مرنے والی عورت نوجوان تھی۔ ایک جوان لڑکی اور ایک بوڑھا مرد۔‘

اس کے بعد وہ ایک کونے میں الگ کھڑی ہو گئیں اور اپنے جوتوں کی جانب چند منٹ دیکھتی رہیں اور اپنا سر ہلاتی رہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تدفین کرنے والی ٹیم کے دیگر ارکان میں زیادہ تر طالب علم ہیں۔ سکول اور یونیورسٹیاں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر بند کردی گئی ہیں

’میں جب رات کو سونے کے لیے بستر پر لیٹتی ہوں تو ان افراد کے چہرے میری نظروں کے سامنے آتے ہیں۔ مجھے خوفناک خواب دکھائی دیتے ہیں۔‘

تدفین کرنے والی ٹیم کے دیگر ارکان میں زیادہ تر طالب علم ہیں۔ سکول اور یونیورسٹیاں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر بند کر دی گئی ہیں۔

ٹیم کا ایک نوجوان رکن مرنے والے دو افراد کے رشتہ داروں سے پوچھ رہا ہے کہ آیا وہ حال ہی میں ایبولا سے مرنے والوں کے جنازے پر گئے ہیں یا نہیں۔

ان سوالات کا مقصد اس بات کا تعین کرنا ہے کہ آیا ان میں سے کسی اور فرد کے ایبولا میں مبتلا ہونے کے امکانات ہیں یا نہیں۔

اس کے بعد یہ ٹیم ساتھ ہی ایک اور گاؤں میں گئی جہاں ایک ایک سالہ بچہ ہلاک ہوا ہے۔

جب یہ ٹیم اس گاؤں میں پہنچی اور ایک شخص نے گاڑی میں بیٹھی ٹیم کی تصویر بنانی چاہی تو کابو کے ساتھیوں نے اس کا فون لے کر توڑ دیا۔

کابو کا دن شام پانچ بجے ختم ہوا، لیکن انھوں نے ایک گھنٹہ مزید انتظار کیا اور پھر بس پکڑ کر اپنے گھر کی جانب روانہ ہو گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دن کی روشنی ہی میں گھر جانا محفوظ ہے۔

اسی بارے میں