’ایبولا کی روک تھام کے لیے درکار وسائل نہیں ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’ایبولا وائرس کے خاتمے کے لیے فوری مدد درکار ہے‘

ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ کے مشن کے سربراہ ٹونی بینبری کا کہنا ہے کہ اس مہلک بیماری کے خاتمے کے لیے درکار وسائل مہیا نہیں ہیں۔

ٹونی بینبری نے یہ بات لائبیریا، سیئرا لیون اور گنی کے دورے کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ برطانیہ، چین، کیوبا اور امریکہ کی جانب سے امداد دی گئی ہے لیکن ایبولا وائرس کے خاتمے کے لیے فوری طور پر مدد درکار ہے۔

واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ ایبولا سے اب تک 4818 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جن میں سے 4791 ہلاکتیں مغربی افریقی ممالک میں ہوئی ہیں۔

ٹونی کا کہنا تھا کہ ایبولا کے خلاف لڑنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔

یاد رہے کہ عالمی ادارہ صحت نے کہا تھا کہ ایبولا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک لائبیریا میں اس کے پھیلاؤ میں کمی واقع ہوئی ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ایبولا کیا ہے؟ دیکھیے قندیل شام کی وڈیو رپورٹ

عالمی ادارہ صحت کے بروس ایلیورڈ کا کہنا تھا کہ وہ پراعتماد ہیں کہ ایبولا پر قابو پایا جا رہا ہے، تاہم انھوں نے متنبہ کیا کہ اب بھی ایبولا بحران ختم نہیں ہوا۔

دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مغربی افریقہ میں ایبولا کی روک تھام اور امریکہ تک اس مہلک وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے صدر براک اوباما کانگریس سے 6.2 ارب ڈالر کی امداد کی منظوری کا کہیں گے۔

امریکی حکام نے کہا کہ امریکی صدر اس ضمن میں 5.4 ارب ڈالر فوری طور پر منظور کرنے کا کہیں گے۔

اسی بارے میں